سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے8000 کروڑ کا سالانہ بوجھ

,

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر چندر شیکھر راو کی عہدیداروں سے مشاورت،40 فیصد تک فٹمینٹ کی منظوری کا اعلان متوقع
حیدرآباد۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع سے متعلق فیصلوں پر عمل آوری سے قبل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے سرکاری خزانہ پر پڑنے والے زائد بوجھ کے بارے میں عہدیداروں سے مشاورت کا آغاز کردیا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ پے ریویژن کمیشن کی رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی۔ چیف منسٹر نے نئی ریاست کی تشکیل کے فوری بعد وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ اور پی آر سی پر عمل آوری کا تیقن دیا تھا۔ دوسری میعاد میں کامیابی کے بعد سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پنشنرس کے دباؤ میں اضافہ ہوگیا۔ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی طاقت میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے نہ صرف پی آر سی کی رپورٹ حاصل کرلی بلکہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی تیاری شروع کردی۔ چیف منسٹر نے تنخواہوں میں اضافہ کی صورت میں سرکاری خزانہ پر پڑنے والے اضافی بوجھ سے نمٹنے پر ماہرین سے رائے طلب کی ہے۔ چیف منسٹر کو بتایا گیا ہے کہ 9.36 لاکھ ملازمین سرکار کی تنخواہوںمیں40 فیصد اضافہ سے سرکاری خزانہ پر سالانہ 8000 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ 2015 میں جب 43 فیصد فٹمینٹ کا اعلان کیا گیا تھا اُسوقت سرکاری خزانہ پر سالانہ 6500 کروڑ کا بوجھ عائد ہوا تھا۔ چیف منسٹر نے سرکاری ملازمین کے علاوہ آؤٹ سورسنگ، کنٹراکٹ ملازمین اور تمام دیگر زمروں سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور پنشنرس کی تنخواہوں اور وظیفہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کے بعد گریجویٹی اور ریٹائرمنٹ بینفٹ کی ادائیگی سے بچتے ہوئے 2 تا 3 ہزار کروڑ کی بچت کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین سرکار نے 60 فیصد فٹمینٹ کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ریاست کا مالیاتی موقف اس قدر ادائیگی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ 2015 میں پی آر سی نے 29 فیصد فٹمینٹ کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے 43 فیصد ادا کیا تھا۔ چیف منسٹر نے تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ پر ملازمین سے مشاورت کی ذمہ داری چیف سکریٹری سومیش کمار کی زیر قیادت کمیٹی کو دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ٹی سی ملازمین کو 44 فیصد فٹمینٹ کی صورت میں سالانہ 800 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ کنٹراکٹ لیکچررس، وی آر اوز، آنگن واڑی ورکرس، آشا ورکرس اور ولیج ریوینو اسسٹنٹس کی تنخواہوں میں اضافہ سے 450 کروڑ کا سالانہ بوجھ ہوگا۔ واضح رہے کہ کابینی وزراء، ارکان مقننہ اور دیگر عوامی نمائندوں کی تنخواہوں میں 2016 میں اضافہ کیا گیا تھا جس سے 30 کروڑ کا اضافی بوجھ عائد ہوا ہے۔