ایک فیصد اضافہ پر سالانہ 330 کروڑ کا اضافی بوجھ، وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر 60 سال کرنے کی سفارش
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کے سلسلہ میں بھاری مالیاتی بوجھ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ پے ریویژن کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملازمین کی تنظیموں کو تیقن دیا ہے کہ فروری میں تنخواہوں میں اضافہ اور وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں توسیع کے بارے میں فیصلہ کرلیا جائے گا ۔ پی آر سی رپورٹ میں ملازمین کو فٹمنٹ کے بارے میں جو سفارشات پیش کی گئی ہیں، اسے انتہائی رازداری میں رکھا گیا ہے ۔ چیف سکریٹری کی قیادت میں تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی جنوری میں ملازمین کی تمام تنظیموں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کرے گی۔ تمام تنظیموں سے مشاورت کے بعد فٹمنٹ کے بارے میں حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی جسے ریاستی کابینہ میں منظور کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اگر سرکاری ملازمین کو ایک فیصد فٹمنٹ دیا جائے تو سرکاری خزانہ پر 330 کروڑ روپئے کا بوجھ آئے گا ۔ اگر 25 فیصد فٹمنٹ دیا جاتا ہے تو سرکاری خزانہ پر سالانہ 37000 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ ملازمین کی تنظیمیں 50 تا 60 فیصد فٹمنٹ کا مطالبہ کر رہی ہیں جو حکومت کیلئے ناقابل برداشت بوجھ کی طرح ہے۔ حکومت کے بعض گوشوں نے 30 فیصد فٹمنٹ کے اعلان کا اشارہ دیا ہے ۔ تاہم چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق سالانہ مالیاتی بوجھ کا جائزہ لینے کے بعد فٹمنٹ فیصد کا تعین کیا جائے گا ۔ تلنگانہ ریاست پہلے ہی مالیاتی بحران کا شکار ہے اور کورونا لاک ڈاون کے بعد حکومت نے کئی اداروں سے بھاری قرض حاصل کیا ہے۔ حکومت سرکاری ملازمین کو خوش کرنے کیلئے سالانہ 30 تا 40 ہزار کروڑ کا بوجھ برداشت نہیں کرے گی۔ تلنگانہ میں سرکاری ملازمین کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے جبکہ 3.5 لاکھ پنشنرس ہیں۔ آوٹ سورسنگ ایمپلائیز کی تعداد 1.20 لاکھ بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کے سلسلہ میں پی آر سی کی سفارشات صرف سرکاری ملازمین کیلئے قابل اطلاق رہیں گی۔ آر ٹی سی اور دیگر کارپوریشنوں کے بارے میں حکومت کو علحدہ احکامات جاری کرنے ہوں گے ۔ اسی دوران پی آر سی رپورٹ میں وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر 58 سے بڑھاکر 60 کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ چیف سکریٹری کی زیر قیادت کمیٹی میں سینئر آئی اے ایس عہدیدار رام کرشنا راؤ اور رجت کمار کو شامل کیا گیا ہے ۔ ملازمین کی تنظیمیں اپنے مطالبات اور مسائل ان سے رجوع کریں گی۔ ریاست کی موجودہ کمزور معاشی حالت کے پیش نظر کے سی آر حکومت کیلئے تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ انہیں ایک طرف ملازمین کو خوش کرنا ہے تو دوسری طرف سرکاری خزانہ کا لحاظ کرنا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ فروری میں حکومت تنخواہوں میں اضافہ اور سبکدوشی کی عمر میں توسیع کا اعلان کرے گی۔ ورنگل اور کھمم میں مجالس مقامی کے انتخابات اور گریجویٹ زمرہ کی کونسل کی دو نشستوں پر الیکشن میں کامیابی کے سی آر کی اولین ترجیح ہے۔
