نئی دہلی12مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن نے حکومت پر ریلوے کی نجکاری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کے روز کہا کہ یہ صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں ہے اور اس لئے اسے نجی ہاتھوں میں فروخت نہیں کیا جانا چاہیے ۔لوک سبھا میں مالی سال 2020-21 کے لئے ریلوے کی گرانٹس کے مطالبے پر بحث کے ساتھ ہی آج بجٹ پر بحث شروع ہوئی۔ کانگریس کے ایم کے راگھون نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا ‘‘ریلوے صرف منافع کمانے کا انجن نہیں ہے ۔ یہ غریبوں کی لائف لائن ہے ۔ یہ ایک طرح سے ہندوستان میں دوڑنے والا چھوٹا ہندوستان ہے ’’۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے دور میں ریلوے کی آپریشنل کارکردگی میں مسلسل کمی آئی ہے ۔ مالی سال 2014-15 میں یہ 6.95 فیصد، 2015-16 میں سات فیصد، 2016-17 میں 1.62 فیصد اور 2017-18 میں 0.51 فیصد رہ گئی۔ راگھون نے الزام لگایا کہ ریلوے کے معاملے میں یہ حکومت پوری ناکام رہی ہے ۔ مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں ریلوے پر خاص توجہ نہیں دی گئی ہے ، اس کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔دراوڑ منیتر کژگم کے ایس ایس پلانی منیکم نے الزام لگایا کہ حکومت ریلوے کی نجکاری کر رہی ہے ۔ اسے ایسا کرنے سے بچنا چاہیے ۔ سڑک، آبی گزر گاہیں اور ایئر انڈیا تک کو نجی ہاتھوں میں دیاا جا رہا ہے ۔ اب صرف ریلوے ہی بچا ہے ۔ کم از کم اس کا پرائیویٹائزیشن نہیں کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے مکمل ریل بجٹ کی روایت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریلوے میں مستقل تقرری کی جائے اور علاقائی عدم توازن ختم کیا جائے ۔مسٹر پلانی منیکم کہا کہ غریب لوگ کے مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومت کو مختصر فاصلے کی ٹرینیں چلانے کو فروغ دینا چاہیے ۔اس کے ساتھ ہی ٹرینوں میں غیر ریزرو ڈبوں کی تعداد میں اضافہ کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے ریلوے کی توجہ مسافروں پر ہوتی تھی اب فریٹ ٹرانسپورٹ پر ہے ۔بی جے پی کے تپر گاؤ نے حکومت سے شمال مشرق کے لئے ریل پروجیکٹوں میں تیزی لانے کی مانگ کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ اس شعبے کے منصوبوں کو اقتصادی فائدہ کے امکان کی بجائے قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے ۔
