سری لنکا کا بحران ‘ فوری حل ضروری

   

ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
پڑوسی ملک سری لنکا میں بحران کم ہونے کی بجائے مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے اور عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا ہے ۔ عوام وقفہ وقفہ سے اچانک ہی سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت کے خلاف برہمی اور ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ حکومت بھی اپنی جگہ اٹل موقف اختیار کئے ہوئے ہے اور وہ عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کرتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ حکومت نہ تو استعفی دینے کیلئے تیار ہے اور نہ ہی عوام کو کسی طرح کی راحت پہونچائی جا رہی ہے ۔ الٹا عوام پر مسلسل بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ فیول کی شدید قلت کو دیکھتے ہوئے ملک میں فیول راشننگ لاگو کردی گئی تھی تاہم آج سے اس راشننگ کو برخواست کردیا گیا ہے لیکن فیول کی قیمتوں میں 35 تا 65 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے اور یہ قیمتیں پہلے ہی سے پریشانیوں اور مسائل کا شکار عوام کیلئے ناقابل برداشت ہیں۔ فیول قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے خلاف عوام آج سڑکوں پر اترآئے اور اچانک ہی احتجاج شروع کردیا ۔ دارالحکومت کولمبو پہونچنے والی سڑکوں پر راستہ روکد یا گیا ۔ ٹائر جلائے گئے اور حکومت سے یا تو فوری راحت فراہم کرنے یا ساتعفی پیش کردینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ حکومت عوام کو مطمئن کرنے اور انہیںراحت پہونچانے کی بجائے انہیں طاقت کے زور سے روکنا چاہتی ہے ۔ آج احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ درجنوں دوسرے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے ۔ حکومت کا جہاں تک سوال ہے وہ تو عوامی مسائل پر بے حسی کا مسلسل مظاہرہ کر رہی ہے یا پھر حالات اس کے بھی قابو میں نہیں رہ گئے ہیں ۔ دونوںہ ی صورتوں میں حکومت کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوجانا چاہئے اور استعفی پیش کردینا چاہئے ۔ کم از کم تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر مشترکہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کرنے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جانا چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے بھی تجاویز حاصل کرتے ہوئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ تاہم حکومت کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔
صورتحال کی سنگینی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے کئی نامور کرکٹرس اور سابق کپتانوں نے بھی عوامی تائید میں مظاہروں میں حصہ لیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو راحت پہونچانا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ حکومت کو اس سلسلہ میں فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی مسلسل حکومت سے اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن حالات کو بدلنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے متواتر اقدامات کا دعوی کیا جارہا ہے لیکن حالات میں کسی طرح کی تبدیلی اب تک رونما نہیں ہوئی ہے ۔ عوام جس طرح کے حالات اور مسائل کا شکار ہیں وہ سنگین ہیں۔ عوام کو برقی کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ کئی کئی گھنٹے برقی سربراہی نہیں ہو پا رہی ہے ۔ غذائی اجناس بھی عوام کو واجبی قیمتوں میں دستیاب نہیں ہو رہی ہیں۔ پہلے تو دستیاب ہی نہیں ہیں اور ہیں بھی تو ان کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھا دی گئی ہیں۔ قیمتوں پر کنٹرول کرنے کیلئے بھی حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ کالا بازاریوں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو ایک طرح سے کھلی چھوٹ مل گئی ہے اور وہ صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے عوام پر بوجھ میں مزید اور بے تحاشہ اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے حکومت عوام کو راحت پہونچا سکتی ہے لیکن ایسا کیا نہیں گیا ہے جس سے حکومت کی نا اہلی اور عدم کارکردگی ظاہر ہوتی ہے ۔ عوام اسی وجہ سے حکومت سے ناراض ہیں۔
جہاں تک فیول کا معاملہ ہے اس پر بھی حکومت اپنا کنٹرول کھو چکی ہے ۔ پہلے تو فیول حاصل کرنے کئی کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے ۔ اس کے بعد جب فیول دستیاب ہو بھی رہا ہے تو اس کی قیمتوں میں من مانی اضافہ کردیا گیا ہے ۔ حکومت نہ حالات کو بہتر بنا پا رہی ہے اور نہ ہی قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے ۔ اس صورتحال سے حالات بہت زیادہ ابتر ہوگئے ہیں۔ حکومت کو تن آسانی اور من مانی کو ترک کرتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے کیلئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئے ۔ اپوزیشن اور دوسرے تمام ذمہ داروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کی تجاویز سے کے مطابق بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔