کولمبو: سری لنکا ہندوستان کی جانب سے دیئے گئے چار کروڑ ڈالر کے قرض کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے شمالی کی جانب کنکاسنتھورائی بندرگاہ کی ترقی کے لیے تیار ہے ۔ یہ اطلاع جمعہ کو دی گئی۔آج جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بندرگاہوں، جہاز رانی اور ٹرانسپورٹ کے وزیر نمل سریپالا ڈی سلوا نے ڈیلی مرر کو بتایا کہ سری لنکا پورٹس اتھارٹی (ایس ایل پی اے ) نے تیاری کا کام شروع کر دیا ہے اور باقی کام ہندوستان کے ایگزم بینک سے فنڈز ملنے کے بعد کیا جائے گا۔ وزیر نے کہاکہ ‘‘کچھ کام کیا ہے جو ہمیں کرنا تھا، اب ہندوستان کی طرف سے ایک مشیر مقرر کیا گیا ہے ۔ رپورٹ ملنے کے بعد ہم بندرگاہ کے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھائیں گے ۔’’انہوں نے کہا کہ فی الحال یہاں صرف چھوٹے جہاز ہی رک سکتے ہیں۔ ہم اسے بڑے جہازوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تیار کریں گے ۔ قبل ازیں ماہی پروری کے وزیر ڈگلس دیوانند نے کہا تھا کہ ہندوستان اور شمالی سری لنکا کے درمیان سامان کی نقل و حمل جلد شروع ہو جائے گی۔ہندوستانی مدد سے اس بندرگاہ کو تیار کرنے کا کام کافی عرصے سے زیر غور تھا اور ہندوستان نے مئی 2009 میں تنازع ختم ہونے کے بعد مالی امداد کی پیشکش کی تھی اور اس کے بعد وہاں سے ملبہ ہٹانے کا کام کیا گیا تھا۔
سری لنکا کے شمالی حصے اور ہندوستان کے جنوبی حصے کے درمیان سمندر کی ایک تنگ پٹی ہے جو دونوں ممالک کو الگ کرتی ہے ۔