سزائے موت یافتہ کو سپریم کورٹ نے بری کردیا

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے موت کی سزا پانے والے چندر بھان سنپ کو بری کر دیا ہے۔ اس پر ممبئی کی 23 سالہ ٹیچی ایستھر انوہیا کے ریپ اور قتل کا الزام تھا۔سنپ کو خواتین کی خصوصی عدالت نے 2015 میں موت کی سزا سنائی تھی۔اس کے بعد اس نے اپنی موت کی سزا کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سنپ نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ سپریم کورٹ نے آج استغاثہ کی کہانی میں خامیاں تلاش کرنے کے بعد انہیں بری کردیا۔سنپ نے بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل کرکے اپنی سزائے موت کو چیلنج کیا تھا، لیکن ان کی اپیل مسترد کردی گء￿ تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد، وہ سپریم کورٹ چلے گئے، جس نے استغاثہ کے کیس میں خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی سزا کو کالعدم کر دیا۔چندر بھان سنپ کو 2015 میں ایک خصوصی عدالت نے قصوروار قرار دیا تھا اور 23 سالہ سافٹ ویئر پروفیشنل کی عصمت دری اور قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی جو ممبئی کی ایک معروف آئی ٹی فرم میں ملازم تھی۔