سلم اور غریب بستیوں کے عوام کی صحت سے کھلواڑ ، حکومت کی توجہ ضروری
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔30۔ستمبر۔شہر کے سلم اور غریب بستیوں میں انتہائی سستے اور کم داموں میں پیاکٹ بند اشیائے خورد و نوش کی فروخت کے ذریعہ عوام کی صحت سے کھلواڑ کیا جا نے لگا ہے لیکن اس طرح کی تجارت پر جو MRP یعنی اعظم ترین قیمت سے انتہائی کم قیمت پر کی جا رہی ہے اسے روکنے کے لئے انسانی صحت کے تحفظ کے لئے قائم کئے گئے ادارہ TGSafe کی جانب سے فوری کاروائی کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ شہر میں موجود سوپر مارکٹس کے علاوہ آن لائن اشیائے خورد ونوش بالخصوص پیکٹ بند غذائیں ‘ تیل ‘ دودھ ‘ دہی کے علاوہ دیگر اشیاء جن کی مدت استعمال بلکل قریب الختم ہوتی ہے وہ فروخت کے لئے لائے جا رہے ہیں ۔ شہر کی سلم بستیوں میں لاتے ہوئے فروخت کی جانے والی اشیاء میں نہ صرف اشیائے تغذیہ ہیں بلکہ صابن‘ ڈیٹرجنٹ ‘ شیمپو‘ ترکاریاں اور کئی بوتل بند مشروبات بھی شامل ہیں جو کہ سرکردہ کمپنیوں کے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ 25 فیصد سے بھی کم قیمت پر فروخت کئے جا رہے ہیں۔SWIGGY انسٹا مارٹ کے خلاف کی گئی کاروائی کے بعد اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ یہ اشیائے خورد ونوش جن کی مدت استعمال ختم ہونے کو ہے ان اشیاء کو ایسی غریب سلم بستیوں میں لاکر فروخت کیا جا رہاہے جہاں عام طور پر شہریوں میں یہ شعور نہیں ہوتا کہ جن اشیاء کی مدت استعمال ختم ہونے کو ہے ان اشیائے کو استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔ شہر کے کئی سلم اور غریب بستیوں میں لاتے ہوئے فروخت کی جانے والی ان اشیاء میں بین الاقوامی معیار کے ’یوگرٹ‘ اور جوس بھی شامل ہیں جن کی مدت استعمال ختم ہونے والی ہے انہیں فروخت کیا جا رہاہے ۔ذرائع کے مطابق ان مقامات سے بعض سرکردہ تاجرین بھی اپنی فروخت کی اشیاء خرید کر انہیں اپنی دکانات کے ذریعہ بھاری قیمتوں پر یا MRP پر فروخت کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں بعض ٹھوک تاجرین کی جانب سے ہوٹلوں اور ریستوراں کے علاوہ کیٹرنگ کمپنیوں کو یہ اشیاء انتہائی کم قیمتوں میں فراہم کی جار ہی ہیں ۔ بتایا جاتاہے کہ دودھ سے تیار کی جانے والی اشیاء بالخصوص کھووا‘ دودھ پیڑے‘ دہی ‘ دودھ‘ گھی ‘ پنیر ‘ مسکہ کے علاوہ دیگر اشیاء جو کہ ملک کی سرکردہ کمپنیوں کے ہیں وہ بھی ان مقامات پر فروخت کئے جا رہے ہیں ۔TGSAFE کے ذمہ داروں کو ریستوراں ‘ ہوٹلوں ‘ بیکری ‘ اشیائے خورد ونوش کی فروخت کرنے والے مقامات کے علاوہ ایسے سلم اور غریب آبادیوں میں بھی جہاں ناقابل استعمال اشیاء فروخت کی جارہی ہیں ان کا جائزہ لینا چاہئے کہ آخر کس طرح سے یہ اشیاء اتنی کم قیمتوں میں عوام کے درمیان فروخت کے لئے لائی جاتی ہیں اور کون ان اشیاء کی سربراہی کو یقینی بنارہا ہے! ذرائع کے مطابق جن اشیاء کو سوپر مارکٹ اور سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے تلف کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے وہ اشیاء غریب شہریوں کے درمیان لاتے ہوئے فروخت کی جارہی ہیں جو کہ ان کی زندگیوں کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔غریب عوام بالخصوص سلم علاقوں میں رہنے والوں میں شعور کی کمی کے نتیجہ میں وہ ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی کو دیکھتے ہوئے یہ اشیاء خرید رہے ہیں جو کہ ان کی صحت کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتے ہیں۔سوپر مارکٹ ‘ کے علاوہ آن لائن فروخت کی جانے والی اشیاء جن کی مدت استعمال ختم ہونے والی ہو اور سرکردہ کمپنیوں کی جانب سے انہیں واپس لینے کے بجائے تلف کرنے کا فیصلہ کیاجاتا ہے ان اشیاء کو اس طرح کے بازاروں میں فروخت کرتے ہوئے آمدنی کا ذریعہ بنانے کے علاوہ شہریوں کی صحت کو متاثر کیا جار ہاہے ۔سرکردہ کمپنیاں جو کہ اپنی اشیاء رعایتی قیمتوںمیں پر دینے کے سلسلہ میں متعدد مارکٹنگ کے منصوبوں اور نقصانات کا جائزہ لیتی ہیں ان کمپنیوں کے اشیاء سلم علاقوں میں اشیاء پر درج قیمت پر 90 فیصد رعایت کے ساتھ فروخت کی جار ہی ہیں ۔انتہائی سستے داموں میں فروخت کی جانے والی ان اشیاء کی خریداری سے شہریوں کو نہ صرف اجتناب کرنا چاہئے بلکہ دوسروں میں شعور بیدار کرتے ہوئے انہیں یہ بتایا جانا چاہئے کہ مدت استعمال کے ختم ہونے سے قبل جن اشیاء کو تلف کرنے کا فیصلہ کیاجاتاہے وہ انسانی صحت کے لئے خطرناک ہونے کی بناء پر ہی تلف کی جاتی ہیں جنہیں معمولی قیمتوں پر فروخت کیا جارہا ہے۔