ریاض : سعودی عرب نے یوکرین میں پکڑے گئے غیر ملکی جنگجوؤں کی رہائی کو یقینی بنا کر سفارتی فتح حاصل کرلی جو یوکرین جنگ میں ماسکو کو تنہا کرنے کے خواہش مند مغربی شراکت داروں کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے روس کے ساتھ اتحاد کیا اہمیت کا اشارہ ہے۔ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد کا یہ اقدام، دانستہ یا نادانستہ، جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے بعد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے بعد بین الاقوامی بحالی کے قریب لے جانے میں مدد کرتا ہے۔محمد بن سلمان کی ثالثی کے باعث روس نے یوکرین میں پکڑے گئے 10 غیر ملکیوں کو رہا کر دیا، جن میں 5برطانوی اور 2 امریکی شامل تھے۔یہ اقدام، بظاہر شہزادہ محمد بن سلمان کے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ احتیاط سے پروان چڑھائے گئے تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوا اور ایسے وقت ہوا کہ جب دوسری طرف ترکی کی ثالثی میں 125 یوکرینی جبکہ 55 روسی اور ماسکو یوکرینین حامی قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔