سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، امریکہ۔ایران مذاکرات کی حمایت

   

قاہرہ، 22 جون (ایجنسیز) سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں ہونے والے اہم اجلاس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے پر زور دیا ۔ چار ملکی مشاورتی نظام کے چوتھے اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے شرکت کی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور امریکہ و ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد پاکستان کے ثالثی کردارکا جائزہ لیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بحران پر قابو پانے، مزید عدم استحکام کو روکنے اور سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے باہمی رابطے اور مشاورت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کی کامیابی خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ مذاکرات میں پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو بھی فروغ دے گی۔وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے اور تمام ممالک مل کر بحرانوں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں۔ بعد ازاں چاروں وزرائے خارجہ نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی، جنہوں نے اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ کے کردار کو خطے میں امن اور استحکام کے اہم ستونوں کے طور پر مزید نمایاں کر دیا ہے۔ صدر السیسی نے گزشتہ عرصے کے دوران چاروں ممالک کے درمیان قریبی رابطوں اور ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے طویل جنگ کو ختم کرنے پر عبوری اتفاق کیا ہے جس کے بعد عالمی منظر نامہ پر امید کی نئی کرن دکھائی دی ہے۔