خلیجی ممالک میں تلنگانہ و اے پی کے 30 لاکھ شہری برسر خدمت ، سعودی عربیہ تلگو اسوسی ایشن کا بیان
حیدرآباد۔22۔اکٹوبر(سیاست نیوز) سعودی عرب میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور حوثیوں کے حملوں نے تلنگانہ و آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے غیر مقیم ہندستانیوں کے خاندانوں میں تشویش کی لہر پیدا ہونے لگی ہے ۔ تلنگانہ و آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے وہ نوجوان جو سعودی عرب کے مختلف شہروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے افراد خاندان اپنے نوجوانوں و رشتہ داروں کے لئے فکرمندی ظاہر کرنے لگے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں ان کی ملک واپسی کے لئے بھی کوئی سہولت نہیں ہے اور سعودی عرب کے شہروں پر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ سعودی عربیہ تلگو اسوسیشن کے مطابق سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مجموعی اعتبار سے 10 لاکھ سے زائد تلگو ریاستوں آندھراپردیش و تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں اور مختلف کمپنیوں بالخصوص تیل کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کنگ فہد انٹرنیشنل ائیرپورٹ دمام پر حوثی میزائل حملہ اور الشیبہ آئیل فیلڈ پر کئے گئے حملہ کے بعد ہندستانیوں کی تشویش میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق خلیجی ممالک میں خدمات انجام دینے والے آندھراپردیش و تلنگانہ کے شہریوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جن میں 15لاکھ سے زائد افراد تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ہیں اور ان میں بڑی تعدادسعودی عرب میں مقیم ہے۔ سعودی عرب میں خدمات انجام دینے والے ہندستانی شہریوں میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد یہ تصور کر رہی تھی کہ سعودی عرب میں امن و امان کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور کوئی بھی سعودی عرب پر حملہ کی جرأت نہیں کرے گا لیکن اب جوصو رتحال پیدا ہوچکی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہوتی جار ہی ہے۔امریکہ نے اپنے سفارتی عملہ اور ان کے خاندانوں کو سعودی عرب سے انخلاء کی ہدایت جاری کردی ہے جو کہ سعودی عرب پر امکانی حملوں میں اضافہ کی پیش قیاسی کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ سعودی عرب کے سخت قوانین اور سوشل میڈیا کے استعمال پر عائد پابندیوں کے علاوہ خبروں کی ترسیل کے معاملہ میں کئے جانے والے احتیاط کے نتیجہ میں سعودی عرب میں مقیم ہندستانی شہری بالخصوص تلنگانہ و آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے رشتہ داروں اور افراد خاندان کو زمینی حقائق سے واقف کروانے سے قاصر ہیں اور جس صورتحال کا وہ سامنا کررہے ہیں اس سے دنیا اور خود ان کے رشتہ دار واقف نہیں ہوپا رہے ہیں ۔بتایاجاتاہے کہ حکومت تلنگانہ کے این آر آئی سیل کو ریاستی حکومت نے کارکرد بناتے ہوئے سعودی عرب میں مقیم تلنگانہ سے تعلق رکھنے والوں سے رابطہ اور انہیں ضرورت پڑنے پر مرکزی وزارت خارجہ کے توسط سے مدد کی فراہمی کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے کیونکہ حوثی حملوں میں شدت کے بعد ہندستانی شہریوں کے لئے حکومت ہند کی جانب سے متعدد رہنمایانہ خطوط جاری کئے جا چکے ہیں اور انہیں سعودی قوانین کی پابندی اور اپنی حفاظت خود کرنے کے اصولوں کے مطابق قیام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہندستانی شہری اب ملک واپسی کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کرنے لگے ہیں لیکن ملک واپسی کے لئے کوئی ذرائع نہ ہونے پر وہ تشویش میں مبتلاء ہیں۔ حکومت ہند کی جانب سے ہندستانی شہریوں کے لئے جاری کی گئی اڈوائزری میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہندستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صنعتی علاقوں سے خود کو دور رکھیں اور فضائی حملوں کے انتباہ کی صورت میں گھروں سے باہر نکلنے کے علاوہ کھڑکیوں کے قریب رہنے سے گریز کریں۔ علاوہ ازیں مقامی سعودی حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی طرح کے حملہ ‘ ڈرون ‘ میزائل یا آتشزنی کے واقعہ کی ویڈیو ‘ تصاویر بنانے سے گریز کرنے کے علاوہ انہیں شیئر نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے والوں کے لئے سعودی قوانین کے تحت سخت کاروائی کی جاسکتی ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ ہندستانی شہری اپنے افراد خاندان کو اپنے مقام ‘ رہائش وغیرہ کی تفصیلات سے واقف کروائیں اور کسی بھی طرح کی ہنگامی صورتحال کے دوران اگر مدد کی ضرورت ہو تو سفارتی و قونصل خانوں کے عہدیداروں سے مدد حاصل کریں۔تلنگانہ و آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے شہری جو سعودی عرب میں مقیم ہیں ان کے لئے حکومت اپنے طور پر مدد کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کو تیز کرچکی ہے۔بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے سعودی عرب میں مقیم شہریوں کی واپسی کے سلسلہ میں سرکاری سطح پر اقدامات کا جائزہ لیا جانے لگا ہے اور کہاجارہاہے کہ حکومت تلنگانہ نے دہلی میں موجود ریسیڈنٹ کمشنر (تلنگانہ بھون) کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ مرکزی وزارت خارجہ سے اس سلسلہ میں رابطہ کو یقینی بناتے ہوئے ریاست کے شہریوں کے متعلق تفصیلات حاصل کریں تاکہ ہنگامی حالات میں ضرورت پڑنے پر ان کے افراد خاندان کو بروقت تفصیلات بہم پہنچائی جاسکیں۔3/m/b