تل ابیب ۔ 19 ستمبر (ایجنسیز) اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو F-35 لڑاکا طیارہ فروخت کرنے کی منظوری کے بعد امریکہ سے اضافی دفاعی صلاحیتیں بطور معاوضہ طلب کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب اسرائیل امریکہ سے ایسے ہتھیاروں کا نظام خریدنے کا مطالبہ کرے گا جن کی منظوری امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پہلے دینے سے انکار کر دی تھی۔ اسرائیلی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوجی توجہ جدید جنگی طیاروں اور نئی نسل کے اسٹیلتھ طیاروں تک محدود نہیں، بلکہ خلائی ہتھیاروں اور دشمن کے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے والے انٹرسیپٹر طیاروں کی تیاری اور پیداوار کی جانب بھی ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے طلب کیے جانے والے ہتھیاروں میں زیرِ زمین ٹھکانوں کو تباہ کرنے والے گولہ بارود اور ایسے زیرِ زمین نظام بھی شامل ہیں جو چٹانی پہاڑوں کے اندر گہرائی میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ویب سائٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ریاض کے ساتھ F-35 طیاروں کے معاہدہ کے بعد واشنگٹن سے معاوضہ حاصل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو ممکنہ طور پر 24.3 ارب ڈالرز مالیت کے 48 ایف 35 جنگی طیارہ فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔