سفید راشن کارڈ کی شرط کے بغیر تمام غریبوں کیلئے پیکیج کا مطالبہ

   

لاک ڈائون سے غریب خاندان فاقہ کشی پر مجبور، سابق وزیر محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد۔ 25 مارچ (سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے کے سی آر حکومت سے مطالبہ کیا کہ 21 دن تک مسلسل لاک ڈائون کی صورت میں غریبوں کو درپیش مسائل کا لحاظ کرتے ہوئے اناج اور رقمی امداد پر مبنی پیکیج کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 14 اپریل تک ملک بھر میں لاک ڈائون کی توسیع کردی ہے جبکہ تلنگانہ حکومت کا رات کا کرفیو 31 مارچ تک مقرر ہے۔ ریاستی حکومت کو مرکز کے فیصلے کے عین مطابق تحدیدات میں توسیع کرنی ہوگی۔ اس طویل مدت تک پابندیوں کا غریبوں پر برا اثر پڑسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری پابندیوں اور کرفیو کے نتیجہ میں غریب بالخصوص روز کماکر زندگی بسر کرنے والے خاندان معاشی پریشانی میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں کیوں کہ انہیں کمائی کا کوئی موقع دستیاب نہیں۔ سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے ہزاروں بے سہارا افراد حکومت کی امداد کی منتظر ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی زندگی کے تحفظ کے لیے تحدیدات اور کرفیو ضروری ہے لیکن حکومت کو تحدیدات پر عمل آوری کے ساتھ غریبوں کے لیے پیکیج کا اعلان کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سفید راشن کارڈ ہولڈرس کے لیے 12 کیلو چاول اور 1500 روپئے امداد کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک تقسیم کا آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سفیر راشن کارڈ ہولڈرس کے حقیقی ایڈرس کا پتہ چلانا آسان نہیں ہے کیوں کہ غریب خاندان وقتاً فوقتاً کرائے کے مکان تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کس طرح سفید راشن کارڈ ہولڈرس کی نشاندہی کرے گی اور ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ چیف منسٹر کے اعلان کے چار دن بعد بھی عہدیداروں ادائیگی کے طریقہ کار کو قطعیت نہیں دی ہے۔ سفید راشن کارڈ ہولڈرس چاول اور رقمی امداد کا انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں فوری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے غیر راشن کارڈ ہولڈرس کو بھی پیکیج میں شامل کرنا چاہئے۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں غریب خاندان ایسے ہیں جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے لیکن وہ حکومت کی تحدیدات کے نتیجہ میں اناج کو ترس رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے راشن کارڈ کی شرط کے بغیر تمام غریب خاندانوں کو پیکیج کے تحت شامل کرنے اور کم از کم 15 کیلو چاول اور 3000 روپئے ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ممکن ہے کہ تحدیدات کو 14 اپریل کے بعد بھی توسیع دینا پڑے گا۔ ان حالات میں صرف غیر سرکاری تنظیموں کی امداد کافی نہیں ہوگی بلکہ حکومت کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔