سفید راشن کارڈ گیرندوں کو 12 کیلو چاول اور 1500 روپئے نقد

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ ’لاک ڈاؤن‘ کے دوران ہنگامی خدمات اور ضروری اشیاء گھروں تک پہنچانے کی ہدایت

٭ 2,500 کروڑ روپئے کی اجرائی کا فیصلہ
٭ صرف دکانات کھلی رہیں گی ،ہر گھر سے
ایک شخص کو اشیاء کی خریدی کیلئے باہر نکلنے کی اجازت
٭ بعض آئی ٹی اور دیگر شعبوں کے ملازمین کو
بااُجرت تعطیل دینے کی ہدایت
٭ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات

حیدرآباد۔22مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست 31 مارچ تک مکمل بند رہے گی اور اس بند کی مدت کے دوران حکومت تلنگانہ کی جانب سے.59 87لاکھ سفید راشن کارڈ گیرندوں کو 12کیلو چاول اور 1500 روپئے پہنچائے جائیں گے جو اندرون 3-4 دن ان تک پہنچ جائیں گے اورا س کا فائدہ ریاست کے 2.83کروڑ عوام کو ہوگا ۔حکومت نے سطح غربت کے تحت زندگی گذارنے والوں کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے سلسلہ میں 2500 کروڑ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اختیار کردہ حفاظتی تدابیر کے سلسلہ میں اعلی سطحی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے یہ اعلان کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت اور وزیر اعظم کی جانب سے جواپیل کی گئی تھی اس کے مطابق ریاست کے عوام نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے وہ اس کے لئے مشکور ہیں کیونکہ عوام نے اسے 100 فیصد کامیاب بنایا ۔ کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست کے عوام سے اپیل کی کہ وہ مزید ایک ہفتہ کیلئے خود کو گھروں کی حد تک محدودرکھیں تاکہ اس بیماری کا متحدہ طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ایمرجنسی خدمات کے سواء مابقی تمام اداروں کو مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ایمرجنسی خدمات اور اشیائے ضروریہ عوام کے گھروںتک پہنچانے کے اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے ریاست کی تمام سرحدوں کوبند کردیا گیا ہے۔چیف منسٹر نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ مجبوری میں کیا گیا ہے اور پر سب کو عمل کرنا لازمی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کو مکمل تنخواہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جن ملازمین کی خدمات درکار ہوں گی ان کو مرحلہ وار انداز میں طلب کیا جائے گا اس کے لئے جی او کی اجرائی کے سلسلہ میں چیف سیکریٹری کو ہدایت جاری کی جاچکی ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کو مکمل طور پر بند کردیئے جانے کے فیصلہ سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے انٹرمیڈیٹ کے جوابی بیاضات کی تنقیح کے کاموں کو روک دیا ہے۔ چیف منسٹر نے ایمرجنسی اور صحت کے متعلق خدمات کے سلسلہ میں کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کی دہلیز پر یہ خدمات فراہم کی جائیں گے۔انہو ںنے بتایا کہ حکومت نے محکمہ صحت کے عہدیداروںکو ہدایت دی ہے کہ ان ایام کے دوران جن خواتین کی زچگی ہونی ہے ان کو دواخانہ پہنچانے کیلئے سہولت کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں۔اسی طرح تمام اضلاع میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ہدایات دی جاچکی ہے۔ ۔انہوں نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ جیسے اجناس اور دودھ کی گاڑیوں کو داخل ہونے دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے ریاست میں کورونا وائرس کی وباء کو قابو میں کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر حکومت کا ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت مسئلہ پر سیاست کرنے کا نہیں ہے بلکہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاست کے تمام ملازمین بشمول انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ اور محکمہ لیبر کے تحت آنے والے تمام اداروں کے ملازمین کو گھر پر رکھتے ہوئے انہیں تنحواہ جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت خود بھی اپنے محکمہ جات کے ملازمین کو تنخواہ جاری کر رہی ہے اسی لئے تمام ادارہ ٔ جات کے مالکین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے ملازمین کا خیال رکھیں اور انہیں تنخواہ جاری کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔