اقوام متحدہ: پاکستان کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بڑا جھٹکہ لگا ہے۔ پاکستان نے کونسل کے سامنے دو ہندستانیوں کو دہشت گرد قرار دینے والی تجویز پیش کی تھی جسے سلامتی کونسل نے مسترد کر دیا۔ اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترو مورتی نے یہ اطلاع ایک ٹویٹ کے ذریعہ دی ہے۔ٹی ایس ترو مورتی کے مطابق، اس سال یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستان نے اس طرح کی حرکت کی۔ دونوں بار دو۔ دو ہندستانیوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی اور دونوں ہی بار اسے ناکامی ہاتھ لگی۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی ہے جسے 1267کمیٹی کہا جاتا ہے۔ یہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث کسی بھی ملک کے باشندوں کو ممنوعہ فہرست میں رکھ سکتی ہے۔ ان کی جانچ کی جاتی ہے اور پھر ان پر کئی طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ان پابندیوں میں سفری پابندی اور اکاونٹ منجمد کرنے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان نے دو ہندستانیوں انگارا اپپا جی اور گووندا پٹنائک کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے تجویز پیش کی تھی۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں شامل امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور بلجیم نے پاکستان کی یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے اس پر آگے کی کارروائی بھی روک دی۔ ترو مورتی نے کہا کہ پاکستان 1267کمیٹی کا استعمال اپنی سیاست کے لئے کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسے مذہبی رنگ دینا چاہتا ہے۔ لیکن سلامتی کونسل نے اس کی چال کامیاب نہیں ہونے دی۔ ہم اس کے لئے ان ارکان کے شکرگزار ہیں۔پاکستان نے اس سال مسلسل دوسری بار ہندوستانی باشندوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی اور دونوں ہی بار اس کی چال ناکام ہو گئی۔ہندستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے بانی مولانا مسعود اظہر کے خلاف پختہ ثبوت پیش کئے اور ثابت کر دیا کہ وہ ہندستان میں دہشت گردانہ حملے کروانے کی سازش میں ملوث ہے۔ ثبوتوں سے صاف ہو گیا تھا کہ اظہر کا تعلق القاعدہ اور طالبان سے بھی ہے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جیش سرغنہ کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا۔ پاکستان اب ہندستان سے اسی کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
