فائرنگ کرنے والے عہدیداروں پر قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ،متاثرین کو انصاف پر بھی زور
نئی دہلی : سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے منگل کے روز پارلیمنٹ میں سنبھل تشدد واقعہ کو اٹھایا اور کہا کہ یہ واقعہ ایک “منصوبہ بند سازش کا حصہ’’ تھا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مساجد میں کھدائی کے بارے میں جو بیانات دے رہے ہیں،وہ ملک میں بھائی چارے کو تباہ کر دے گا۔یادو نے سنبھل انتظامیہ پر جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ بی جے پی کے کارکنوں کی طرح کام کر رہے ہیں۔ “وہ افسران جو وہاں کام کر رہے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے وہ بی جے پی کے کارکن ہیں۔ سنبھل کا واقعہ بی جے پی کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہیتاکہ یوپی کے ضمنی انتخابات میں دھاندلیوں سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔اکھلیش یادو نے کہا کہ پولیس فسران نے عوام کے ساتھ بدتمیزی کی اور ان پر گولیاں چلائی۔ اس واقعے میں پانچ بے گناہ لوگ مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ ان افسروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے اور ان کو معطل کیا جانا چاہیے۔ متاثرین کو انصاف دیا جائے۔’’ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اور یوپی کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے درمیان اقتدار کی جنگ چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لکھنؤ اور دہلی کے درمیان کھینچ تان جاری ہے، اور وہی طریقے جو مرکز میں اپنائے گئے ہیں، لکھنؤ میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔24 نومبر کو سنبھل میں ایک ہجوم نے افسران کی ٹیم پر پتھراؤ کیا تھا، جو کہ ایک عدالت کے حکم پر مغلیہ دور کی مسجد کا سروے کر رہی تھی۔ اس واقعے میں چار افراد کی موت ہو گئی تھی۔ یہ سروے عدالت کے ایک درخواست پر کیا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ مسجد ایک قدیم مندر کے کھنڈرات پر بنائی گئی تھی۔سماج وادی پارٹی کے صدر نے بنگلہ دیش میں ہندو سانت چنموئے کرشنا داس کی گرفتاری پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ بھارت کی حکومت کو اس پر سوچنا چاہیے۔ ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیے۔ اگر وہ ہمارے سنتوں کا احترام نہیں کر سکتے تو وہ کیسے مضبوط حکومت ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
سنبھل میں بھائی چارے کو گولی ماری گئی :اکھلیش
نئی دہلی: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اور لوک سبھا کے رکن اکھلیش یادو نے آج بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کو سنبھل میں ہوئے حالیہ پرتشدد واقعہ کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کے اس قصبے میں منصوبہ بند طریقے پر بھائی چارے کو گولی مار ی گئی۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران مسٹر یادو نے سنبھل میں ایک متنازعہ عبادت گاہ پر حالیہ پرتشدد واقعات اور پولیس فائرنگ کے واقعہ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ وہاں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھائی چارے کو گولی ماری گئی ہے ۔ بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں نے شروع سے ہی وہاں قومی ہم آہنگی کو بگاڑنے کا کا کام کیا ہے ۔ یادو نے کہا کہ عدالت کے حکم پر سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کا سروے مکمل کیا گیا تھا، جس میں مسجد سے وابستہ لوگوں نے مکمل تعاون کیا تھا، لیکن 23 نومبر کو دوبارہ سروے کیا گیا، جس کے دوران پانچ لوگوں کی موت ہو گئی۔ تشدد میں جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ۔
سماج وادی پارٹی کے صدر نے ان پر تشدد واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں تعینات پولیس افسران اور پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ایس پی سربراہ نے سنبھل کے معاملے میں آئین کے خلاف جانے اور غیر قانونی کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ملک میں بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اس معاملے پر کانگریس کے اجول رمن سنگھ نے ایوان میں سنبھل کے لوگوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔
انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر نے کہا “ہمیں سیکولرازم کو بچانا ہے ، کئی بابری مسجدیں یکے بعد دیگرے بنائی جا رہی ہیں، جس سے کنفیوژن پیدا ہو رہی ہے ۔ ’’
خیال رہے کہ 25 نومبر کو پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے کے بعد آج پہلی بار خوش اسلوبی سے لوک سبھا میں کارروائی چل رہی ہے ۔