سنبھل : ا ترپردیش کی سنبھل ضلعی عدالت نے شاہی جامع مسجد کے صدر ظفر علی کی عبوری ضمانت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست کی سماعت 2 اپریل کو مقرر کی ہے۔ انہیں 24 نومبر کو مسجد کے سروے سے شروع ہونے والے تشدد میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں 5 اموات اور صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج II نربھائے نارائن رائے نے آج ان کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے وکیل ہریوم پرکاش سینی کے مطابق کارروائی کے دوران سینی نے کہا کہ جب ظفر علی کے وکیل نے عارضی ضمانت کیلئے دلائل پیش کیے استغاثہ نے ان کے خلاف سنگین الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا تقابل کیا۔ ان میں بھیڑ جمع کرنا، تشدد کو ہوا دینا، عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنا شامل تھا۔عدالت نے ان درخواستوں پر غور کرنے کے بعد عارضی ضمانت مسترد کر دی اور باقاعدہ ضمانت کی درخواست کی سماعت 2 اپریل کو مقرر کر دی۔