سنگاریڈی ، نرسا پور ، پٹن چیرو میں 89 میں 70 تالابوں پر غیر قانونی قبضے

   

سنگاریڈی : حیدرا کی جانب سے کی جانے والی کارروائی میں عوامی جائیدادوں اور تالابوں ، جھیلوں پر غیر قانونی قبضوں پر توجہ دی گئی ہے جب کہ سنگاریڈی ، نرسا پور اور پٹن چیرو اسمبلی حلقہ جات میں 89 میں
70 تالابوں پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ عہدیداروں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ کہا کہ پٹن چیرو کے امین پور ولیج میں تمام تالابوں اور فلڈ کنالس پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص تالاب پوری طرح غائب ہوگیا ہے جب کہ شیٹی کنٹہ جو دراصل 54 ایکرس پر پھیلا ہوا تھا اب صرف 45 ایکرس پر ہو کر رہ گیا ہے ۔ اسی طرح 441 ایکرس کے پداچیرو میں 12 ایکرس پر غیر قانونی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں ۔ اپریوانی کنٹہ کی پوری 6.11 ایکر اراضی پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں ۔ حیدرا کمشنر رنگناتھ نے جنہوں نے اس علاقہ کا حال میں دورہ کیا ہے کہا کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی عمارتوں کو منہدم کردیا جائے گا اور اس سلسلہ میں عہدیداروں کو تغافل پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا ۔ ذرائع نے کہا کہ آبپاشی اور ریونیو کے عہدیداروں کے درمیان ساز باز کے باعث غیر قانونی قبضوں پر روک نہیں لگائی جارہی ہے ۔ اس علاقہ میں صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور نئے رہائشی مکانات کے ڈیولپمنٹ کے باعث زمین کی قیمت 10 تا 50 کروڑ روپئے فی ایکر کے رینج میں ہے ۔ اس کی وجہ سیاسی اثر و رسوخ کے لوگ زمینوں پر غیر قانونی قبضے کرتے ہوئے پلاٹس بناکر انہیں فروخت کررہے ہیں ۔ متوسط طبقے کے لوگ جنہوں نے لا علمی سے ان پلاٹس کو خریدا ہے اب فکر مند ہیں ۔ نرسا پور کے جنارم منڈل میں نو تالابوں پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں ۔ سنگاریڈی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرس میں 18 تالابوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ جن پر غیر قانونی قبضے کئے گئے ہیں ۔ محبوب ساگر جو دراصل 484.2 ایکرس پر تھا اس میں 4.2 ایکرس پر قبضے ہوئے ہیں جب کہ ایرا چیرو جو 21.6 ایکرس پر تھا اس میں 6.5 ایکرس پر قبضے ہوئے ہیں ۔ شکم تالاب کی زمین کو پلاٹس کے طور پر فروخت کرنے پر مقامی افراد میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور عوام یہ سوال کررہے ہیں کہ حکومت اس طرح کے غیر قانونی قبضوں کا تدارک نہ کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کررہی ہے ۔۔