تلنگانہ کو مرکز سے 3 لاکھ کروڑکا نقصان، مکانات کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپئے امداد کی اسکیم کا عنقریب آغاز، محبوب نگر میں جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔/4 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے پر ٹی آر ایس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے پوچھا کہ سوال کرنے والی حکومت کو گرادینا کیا یہی مودی کی پالیسی ہے؟ محبوب نگر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو چیف منسٹر نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور تلنگانہ سے ناانصافی کی شکایت کی۔ تلنگانہ کے خلاف مرکز کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ قومی سیاست میں وہ سرگرم رول ادا کرنے کی تیاری کرچکے ہیں۔ کے سی آر نے محبوب نگر کے عوام سے اپیل کی کہ قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس وقت محبوب نگر کے رکن پارلیمنٹ تھے تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی۔ اسی جذبہ کے ساتھ قومی سیاست میں پیشقدمی کی جارہی ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ میرا ساتھ دیجیئے۔ آپ اگر تیقن دیتے ہیں تو میں قومی سیاست میں حصہ لوں گا۔ تلنگانہ کی طرح ہندوستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے بی آر ایس کے نام پر قومی سیاست میں حصہ داری کا فیصلہ کیا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ متحدہ ریاست کے حکمرانوں نے تلنگانہ کو ہر شعبہ میں پسماندہ کردیا تھا۔ محبوب نگر سے لاکھوں افراد نے نقل مقام کرلیا تاکہ روزگار حاصل کریں لیکن آج وہی محبوب نگر سرسبز و شاداب اور ترقیافتہ ضلع بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد کے ذریعہ حاصل کئے گئے تلنگانہ میں منفرد فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے۔ محبوب نگر ضلع انفارمیشن ٹکنالوجی اور صنعتوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کی جلد تکمیل کی ضرورت ہے۔ اس پراجکٹ کو مرکزی حکومت کی مدد حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیمات کے معاملہ میں کوئی بھی ریاست تلنگانہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ سماج کے ہر طبقہ کیلئے فلاحی اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر میں اسپورٹس اسٹیڈیم اور آڈیٹوریم منظور کیا گیا ۔ 20 سال قبل انہوں نے کہا تھا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عوام خوشحال زندگی بسر کرپائیں گے آج وہ بات درست ثابت ہوئی۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا کے سرحدی علاقوں کے ساکن عوام تلنگانہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں 50 ہزار کی امداد کیلئے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے لیکن اب رعیتو بیمہ کے تحت 5 لاکھ روپئے کی امداد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر کیلئے میڈیکل کالج کے بارے میں کسی نے سوچا نہیں تھا۔ دن رات کام کرکے تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔ دانشوروں، تعلیم یافتہ طبقہ اور نوجوانوں کو اس بارے میں غور کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر کیلئے مالی امداد کی اسکیم کا عنقریب آغاز کیا جائیگا۔ ایسے غریب خاندان جن کے پاس اراضی موجود ہے انہیں 3 لاکھ روپئے تک کی امداد دی جائے گی۔ ہر اسمبلی حلقہ کیلئے ایک ہزار مکانات جلد منظور کئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ مودی حکومت کے نتیجہ میں تلنگانہ کو 3 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ اگر تلنگانہ کے ساتھ مرکز تعاون کرتا تو جی ایس ڈی پی کی شرح میں مزید اضافہ ہوتا۔ دریائے کرشنا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں مرکز کا رویہ آٹھ برسوں سے مخالفانہ ہے۔ پراجکٹس کیلئے منظوریاں نہیں دی جارہی ہیں۔ جمہوری انداز میں تشکیل پائی حکومتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کے بارے میں دیہی علاقوں میں بات چیت ہونی چاہیئے۔ عوام، نوجوان اور دانشور ملک کی موجودہ صورتحال پر غور کریں۔ پانچ برسوں میں مشن بھگیرتا کی تکمیل کرتے ہوئے ہر گھر کو پینے کا پانی فراہم کیا گیا۔ میں نے عوام سے ووٹ نہ مانگنے کا جو عہد کیا تھا اس کی تکمیل کرتے ہوئے گھر گھر پانی سربراہ کیا گیا ہے۔ رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ اور زرعی شعبہ کو برقی کی مفت سربراہی سیاسی اغراض کیلئے نہیں ہے۔ تلنگانہ کے کسان ملک بھر میں وقار اور عزت کے ساتھ سر اٹھاکر جی سکیں یہ حکومت کا مقصد ہے۔ مرکزی حکومت سے سوال کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ آپ کی حکومت کو گرادوں گا۔ سوال کرنے والی حکومت کو گرانا کیا مودی حکومت کی پالیسی ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی کے 40 ارکان اسمبلی کے بارے میں مودی نے کہا تھا کہ وہ ربط میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی خریداری جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو گرانے 4 چور ارکان اسمبلی کو خریدنے آئے تھے انہیں پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ر