ملک بھر میں مختلف گوشوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا انتہائی افسوسناک طریقہ سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کے مثبت پہلووں کو نظر انداز کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعہ نفرت پھیلانے کا کام کیا جا رہا ہے ۔ سوشیل میڈیا پر گروپس بناتے ہوئے نفرت پھیلانے کا طریقہ اب عام ہوگیا ہے اور سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر فاشسٹ و فرقہ پرست ذہنیت کے حامل جنونیوں کی جانب سے ایسی کوششیں بہت پہلے سے اور شدت کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ تاہم جب کبھی انتخابات کا موسم آتا ہے تو ایسی کوششوں میں مزید شدت پیدا ہوجاتی ہے اور سیاسی فائدہ کیلئے ایسی مہم چلائی جاتی ہے ۔ تاہم اب انتہائی افسوسناک صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اور اس پر سبھی فکرمند شہریوں کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے کیونکہ سوشل میڈیا گروپس کے ذریعہ تعلیمی اداروں میں یہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے اور انتہائی کم عمری سے طلبا و طالبات کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جانے لگا ہے ۔ایک ایسے وقت جبکہ ملک میں حجاب تنازعہ کو غیر معمولی ہوا دیتے ہوئے اس کو ایک بڑا مسئلہ بنادیا گیا ہے اور اس پر بھی فرقہ پرستانہ سیاست کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اب اسکولی طلبا و طالبات کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر مواد گشت کروایا جا رہا ہے ۔ اترپردیش سے شروع ہونے والا ایک ویڈیو ان دنوں شمالی ہند خاص طور پر یوپی اور دہلی کے اسکولی طلبا میں گشت کروایا جا رہا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اساتذہ اپنی اپنی جماعتوں کے سوشل میڈیا گروپس میں یہ ویڈیو گشت کروا رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک لڑکی کو ہندو اور ایک لڑکے کو مسلمان کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ لڑکی ہندو ہے اور وہ اپنا مذہب تبدیل کرنے تیار نہیں ہے اسی لئے مسلم لڑکا اس کا قتل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس ویڈیو کے ساتھ یہ پیام بھی شئیر کیا جا رہا ہے کہ ایسے ماحول میں ہندووں کو جاگنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ویڈیو کوئی اور نہیں بلکہ اساتذہ کی جانب سے بھی پیش کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت صورتحال ہے جہاں کم عمر طلبا کے ذہن زہر آلود کئے جا رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی جانب سے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور زہر گھولنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ معمولی سی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے عوام کے مذہبی جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے اور ملک کو درپیش انتہائی اہمیت کے حامل و حساس نوعیت کے مسائل کو کہیں پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا نوجوان روزگار اور ملازمتوں پر توجہ کرنے کی بجائے حجاب کی مخالفت اور جئے شری رام کے نعرہ پر گذارا کرنے لگا ہے ۔ آج نوجوان اس بات پر بحث نہیں کر رہے ہیں کہ ملک کی ترقی اور تعمیر میں ان کا کیا رول ہونا چاہئے بلکہ اس بات پر تکرار کر رہے ہیں کہ کس کو کیا کھانا چاہئے اور کس کا لباس کیا ہونا چاہئے ۔ آج ہمارے نوجوانوں کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ ملک میںمہنگائی کو کس طرح سے قابو کیا جاسکتا ہے ۔ آج اس حقیقت پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے کہ قوم کا اثاثہ سرکاری کمپنیوں کو مٹھی بھر حاشیہ بردار کارپوریٹس کو کیوں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ اس پر حکومت سے سوال کرنے کی بجائے یہ کہا جا رہا ہے کہ مسلمان اس ملک میں نہ رہیں۔ یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کو ملک سے چلے جانا چاہئے ۔ یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں کے رائے دہی کے حقوق واپس لئے جائیں۔ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ اور مذموم کہی جاسکتی ہے اور نوجوانوں کے ذہنوں کو اس حد تک زہر آلود اور پراگندہ کرنے کی ذمہ داری آج میڈیا اور سوشل میڈیا پر عائد ہوتی ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کا محض منفی استعمال ہی ہو رہی ہے ۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس کے ذریعہ حکومت کی ناکامیوں اور صورتحال کی سنگینی کو بھی اجاگر کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جھوٹے دعووں کا پردہ فاش کیا جا رہا ہے اور عوام میں ان کے حقوق اور ملک کی صورتحال کے تعلق سے شعور بیدار کرنے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں لیکن ایسے میں خاموشی کے ساتھ کمسن بچوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرنے کی سازشیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ ایسی مذموم حرکتوں کے خلاف سبھی کو آواز اٹھانے اور ان کوششوں کی نفی کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں اور ارباب مجاز کو بھی اس تعلق سے فوری حرکت میں آنا چاہئے ۔
