سوشیل میڈیا ،نسل نو کی تباہی کا اصل سبب

   

مولانا ڈاکٹر سید اویس بخاری

انسان اپنی خواہش ، ضرورت اور مدعا دوسروں تک پہنچایا کرتا ہے ، اسی کو ابلاغ کہا جاتا ہے ۔ اللہ عز وجل نے انسان کو اپنے خیالات و احساسات کو دوسروں تک پہنچانے کے کئی ذرائع عطا فرمائے ہے ، جن میں سب سے اہم ذریعہ زبان ہے اور دوسرا ذریعہ قلم ہے۔ ہر کوئی یا تو اپنی زبان کے ذریعہ یاپھر اپنے قلم و تحریر کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان نے جو بے پناہ ترقی کے مدارج طے کئے ہیں ان میں انسان کے ابلاغی طریقہ کار میں بھی خوب ترقی ہوئی ہے اور انسان نے اپنی عصری ضرورتوں کے پیشِ نظر اس میں نئے نئے طریقہ ایجاد کئے ہیں۔گزشتہ چند دہائیوں میں ’’ابلاغ‘‘ کے کئی ذرائع وجود میں آئے ہیں، لیکن ان سب میں زیادہ برق رفتار، فعال اور مؤثر ابلاغی ذریعہ سوشل میڈیا ’’Social Media‘‘ ہے۔
اللہ عز وجل نے سورہ توبہ میں فرمایا کہ ’جس دن اُن پر گواہی دیں گی اُن کی زبانیں اور اُن کے ہاتھ اور پیرجو کچھ وہ کیا کرتے ہیں‘۔ ہم یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے سوشیل میڈیا پر کوئی پوسٹ لگادی یا کہہ دی مگر کل قیامت کے دن اس کا حساب و کتاب دینا ہوگا ۔ آج کل سوشیل میڈیا پر عملی ٹولز، جھوٹ اور سچ کی آمیزش، مبالغہ آرائی، بے جا نام نمود و نمائش، دین سے دوری اور والدین کی اس سب سے لاپرواہی ایک معمول بن چکا ہے۔ دوسری سمت ہمارے مذہبی رہنماؤں کا ایک طبقہ بھی اس سوشیل میڈیا کے ذریعہ تخریب و انتشار کو پھیلانے میں مگن ہے ، اختلافی مسائل جو علماء و فقہاء کی مجالس کا حصہ رہا کرتے اسے نوجوان طبقہ میں لاکر ان کے سامنے حقیقت بیانی کے نام سے پیش کیا جانے لگا جس کا بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ دین بیزار بن رہا ہے ۔ مسلم اُمت جو دوسروں کو اخلاق و کردار کا درس دینے کیلئے بھیجے گئے تھے جب اُن کے اخلاق کے نمونے ہم سوشیل میڈیا پر کسی پوسٹ پر یا اس کے کمنٹ باکس میں دیکھتے ہیں تو شرمندگی سے سر جھک جاتا ہے۔
۲۱ ویں صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کی صدی کہلائی۔ اسلام ہر ہر مقام پر انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے جدید ذرائع کے استعمال کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ اس کی تاکید بھی کرتا ہے۔ سماجی و مذہبی اور سیاسی و معاشی سطح پر اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کے مثبت و منفی اثرات اس قدر ہمہ گیر ہیں کہ اس سے کسی کو مجالِ انکار نہیں ہے۔ سوشیل میڈیا کی بڑھتی ہوئی شہرت نے معاشرے پر بہت سے منفی اور مثبت اثرات مرتب کئے ہیں بلکہ اگر کہا جائے منفی اثرات زیادہ ہیں تو غلط نہ ہو گا۔کیونکہ آج کے دور میں جہاں نئی نئی باتوں نے جگہ لے لی ہیں وہاںمعاشرتی روایات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وقت کی تیز رفتاری نے زندگی کے تمام پہلوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے نوجوان،بچے تو درکنار والدین بھی اس بڑھتی ہوئی تبدیلی کے زیر اثر ہیں۔ انٹرنیٹ ایک ایسا جدید اور موثر ذریعہ تبلیغ ہے جس کے ذریعے نہ صرف دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے بلکہ سائنسی ترقی نے زمینی دریافتوں کو عبورکرتے ہوئے چاند تک پہنچ چکے ہیں۔
انٹرنیٹ سرویسز مختلف تحقیقی و جدیدی پلیٹ فارمز پر مشتمل ہے جن میں عموماً زیادہ تر استعمال گوگل، یوٹیوب، جی میل، سکائپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب فی زمانہ سارے سماج کیلئے اور خصوصاً مسلم معاشرہ کیلئے وبالِ جان بن چکے ہیں ، گزشتہ ۸۔۱۰ سالوں سے سوشل میڈیا کے جدید سے جدید پلیٹ فارمز کے متعارف ہونے سے ہماری نوجوان نسل تعلیم و تربیت اور تعمیری و تخلیقی کاموں کے بجائے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فون اور سوشیل میڈیا پر صرف کرتے نظر آرہے ہیں جو ان کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ نوجوان نسل اس کو کھیل کود و لہو لعب کا ذریعہ بناچکے ہیں اور ہر اچھی اور بری چیز کی تمیز کئے بغیر شئیر کررہے ہیں جس سے خود اُن کی اور اُن کے خاندان کی اور اسلام کی بدنامی کا باعث بنتے جارہے ہیں۔ مسلم معاشرہ کی وہ عمدہ صفات جو ایثار، قربانی، ادب و احترام، انصاف، حقوق کی منصفانہ تقسیم اور صلہ رحمی پر مشتمل ہوا کرتی تھیں اور ہمارے معاشرے کی ثقافت اور رہن سہن کی بنیاد تھیں، وہ آج سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی نذر ہوتی جارہی ہیں۔ اگر نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانا ہے اور سوشل میڈیا کی دوڑ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے تو اپنے معاشرتی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔ہمیں ایسے افراد تیار کرنا ہوگا جو بیباکی اور جرأت مندی کے ساتھ سوشیل میڈیا پر ہماری ترجمانی کرسکیں ۔