ممبئی : آئی این ایس وکرانت کوبچا نے کے نام پر بی جے پی لیڈرکریٹ سومیا کے ذریعے عام لوگوں سے جمع کئے گئے فنڈ کی تفتیش کے دوران اچانک کریٹ سومیا غائب ہوگئے ہیں۔ جب مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اپوزیشن کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو بی جے پی کے یہی لیڈرکہتے ہیں کہ جب کیا نہیں تو ڈرنا کیوں۔ لیکن جب ان کی تفتیش شروع ہوئی ہے تو یہی کریٹ سومیا وپروین دریکر ڈرکیوں رہے ہیں؟ انہیں بھی تفتیش کا سامنا کرنا چاہئے ۔ یہ باتیں ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وچیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔ اس ضمن میں بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ کریٹ سومیا کے خلاف ‘وکرانت بچاؤ’ فنڈ کے معاملے میں پولیس اسٹیشن میں شکایت درج ہوئی ہے ۔ سومیا اور ان کے صاحبزادے دونوں باپ بیٹوں کو پولیس نے تفتیش کے لیے طلب کیا تھا لیکن وہ نہیں گئے ۔ روزانہ مخالفین پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے والے کریٹ سومیا کی جب تفتیش کا وقت آیا تو وہ غائب ہو گئے ۔ دو دنوں سے وہ ‘ناٹ ریچیبل’ہیں۔ سومیا نے ‘وکرانت بچاؤ’ کے نام پر ملک سے محبت کے جذبے کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ لونڈھے نے کہا کہ جس طر ح نیرومودی ووجئے مالیا بدعنوانی کے الزام کے بعد ملک سے فرار ہوگئے تھے ، کیا اسی طرح سومیا بھی فرار ہوگئے ہیں؟ سومیا کو فرار ہونے کے بجائے تفتیش کا سامنا کرنا چاہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں قانون کی حکمرانی ہے ، قانون کے تحت جوکچھ ہوتا ہے اس کا سامنا کرنا چاہئے ۔ اگرقصوروار پائے گئے تو انہیں سزا دی جائے گی۔ اس کے لئے دباؤ ڈالنا اور تفتیش سے بھاگنا کسی طور مناسب نہیں ہے اور خاص طور سے اس پارٹی کے لیڈروں کے لئے تو بالکل ہی زیب نہیں دیتا جو دوسروں کے بارے میں یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ جب کیا تو ڈر کیوں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بی جے پی کے ان لیڈروں نے بدعنوانی نہیں کی ہے تو پھر وہ تفتیش سے بھاگ کیوں رہے ہیں اور دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں؟