میں اپنے سرکو کہاں جاکے اور رکھ آؤں
مجھے تو حلقۂ احباب سے گذرنا ہے
کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کیلئے کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو مشن 2024 کیلئے ابھی سے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں آپسی اتحاد کے ذریعہ حکومت کو گھیرنا چاہئے ۔ جملہ 19 اپوزیشن جماعتوں نے اس ورچول ( آن لائین ) اجلاس میں شرکت کی ۔ اس اجلاس سے سب سے اہم جو جماعتیں غیر حاضر رہی ہیں ان میںسماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی شامل ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں اترپردیش کی اصل اپوزیشن کی دعویدار ہیں اور سماجوادی پارٹی تو ریاست میں 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا دعوی کر رہی ہے ۔ ریاست کی سیاست حالانکہ قدرے مختلف ہوتی ہے لیکن اترپردیش میں قومی سیاست کا بھی لازمی اثر رہتا ہے اور اترپردیش کی سیاست کا قومی سطح پر بھی اثر ہوتا ہے ۔ اس اعتبار سے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں میں ان دونوں جماعتوں کو بھی شامل کرنا اہمیت کا حامل ہے ۔ تاہم ابھی چونکہ 2022 میں یو پی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں ایسے میں ان دونوں کی ترجیحات قدرے مختلف ہیں۔ ان کو یو پی انتخابات کے بعد اس جانب راغب کیا جاسکتا ہے تاہم سونیا گاندھی نے دوسری اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی جو پہل کی ہے اس کو پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ آج سارے ملک میں جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے یہ اپوزیشن جماعتوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آپسی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ حکومت کی ناکامیوں اور خامیوں کو عوام میں پیش کرتے ہوئے اپنے آپ کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں۔ بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد بہت ضروری ہے اور یہ اتحاد بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ تمام جماعتوںکو آٖپسی اختلافات اور انا کو ترک کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ ایک مشترکہ ایجنڈہ تیار کرتے ہوئے اس کو آگے بڑھانے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو متفق ہونے کی ضرورت ہے ۔
اپوزیشن جماعتوں کو ایک بات ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے دباو کی وجہ سے ہی حکومت کو او بی سی بل میں ترامیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ اب تک حکومت انتہائی اہمیت کے حامل قوانین پر بھی ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کر رہی تھی اور وہ کسی کی تجاویز کو قبول کرنے تیار نہیں تھی ۔ حالیہ ختم ہوئے پارلیمنٹ مانسون اجلاس میں اپوزیشن نے متحد ہوکر حکومت پر دباو بنایا تھا اور اسی کے نتیجہ میں حکومت کو او بی سی بل میں ترامیم سے اتفاق کرنا پڑا ہے ۔ اس کے علاوہ کسانوں کی فصل خریدی کے معاملے میں حکومت کو موجودہ طریقہ کار میں اپوزیشن کے دباو کی وجہ سے ہی کچھ اہم تبدیلیاں کرنی پڑی ہیں۔ یہ حکومت کے دباو کا نتیجہ ہی تھا جس کے نتیجہ میں یہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسی طرح اگر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوتی ہیں اور حکومت پر دباو بنایا جا تا ہے تو پھر حکومت کے کام کاج میں ممکنہ حد تک تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔ حکومت کو ہٹ دھرمی والے رویہ سے گریز کرنا پڑسکتا ہے اور اس کا اثر راست ملک کے عوام پر بھی دکھائی دے سکتا ہے ۔ اس صورتحال میں اپوزیشن کو صورتحال کے تقاضوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر ایک مشترکہ ایجنڈہ اور مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے سنجیدگی سے کام نہیںکرتیں اس وقت تک بی جے پی سے مقابلہ کرنا یا پھر اسے شکست سے دوچار کرنا ممکن نہیںہوگا ۔ اپوزیشن متحد نہیںہوتا ہے تو پھر اسے انتشار کا شکار ہی ہونا پڑیگا اورا س کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے ۔
آج مرکزی حکومت نے ملک میں جو حالات پیدا کردئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہوگئے ہیں۔ صرف ہٹ دھرمی والے رویہ سے حکومت کی جا رہی ہے ۔ مخالفین کی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ کچلا جا رہاہے ۔ انہیں نشانہ بناتے ہوئے مرکزی ایجنسیوں سے خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ مرکز کے اقتدار کا سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے بیجا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ملک کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی ہے ۔ نوجوانوں کو روزگار اور ملازمتیں نہیں مل رہی ہیں۔ ہر شعبہ میں من مانی کرتے ہوئے عوامی اور قومی اثاثہ جات کو چنندہ حاشیہ بردار کارپوریٹس کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔ بیروزگاری کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ جملہ گھریلو پیداوار انتہائی کم ہوگئی ہے ۔ یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوجائیں اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حکومت کی ناکامیوں کو عوام میں پیش کرنے کی جدوجہد کا آعاز کردیں۔
تلنگانہ میں وبائی امراض
تلنگانہ میں حالانکہ سرکاری اعلان کے مطابق کورونا کی دوسری لہر ختم ہوچکی ہے تاہم اس کے بعد دیگر وبائی امراض نے شدت اختیار کرلی ہے ۔ خاص طور پر ڈینگو اور ملیریا کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ کئی اضلاع ان امراض کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور کچھ اضلاع ایسے بھی ہیں جن میں یہ دونوں امراض پھیل رہے ہیں۔ عوام ان امراض کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور دواخانے ایسے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ حکومت کی سطح پر عوام کو صرف احتیاط برتنے اور اپنے طور پر ان امراض سے نمٹنے کی ہدایات دیدی گئی ہیں۔ تاہم حکومت کو ان امراض کی روک تھام پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ابھی جبکہ کورونا کی دوسری لہر ختم ہی ہوئی ہے عوام دوسرے امراض کا شکار ہوگئے ہیں۔ شہری حدود میں اور خاص طور پر حیدرآباد میں جگہ جگہ کچرے اور گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی وجہ سے مچھیروں کی بہتات ہوتی جا رہی ہے اور یہی مچھر ڈینگو اور ملیریا کے پھیلنے کی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ شہری حدود ہوں یا پھر دیہی علاقے ہوں سبھی جگہ صورتحال یکساں دکھائی دے رہی ہے ۔ حکومت کو فوری اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مچھروں کی بہتات کو ختم کرنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ خاص طور پر کچرے کی نکاسی اور گندگی کی صفائی کیلئے خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کی صحت کا تحفظ کرنا اور انہیں موسمی امراض سے بچانا حکومت کا اولین فریضہ ہے اور محض عوام کو چوکس رہنے اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت بری الذمہ نہیںہوسکتی ۔ حکومت کو خود اس سے نمٹنے کے جنگی خطوط پر اقدامات کرنے چاہئیں۔
