سونیا گاندھی کے خلاف مرکزی وزیر کشن ریڈی کے بیان کی مذمت

   

شہریت قانون غیر دستوری، ترجمان پردیش کانگریس نرنجن کا بیان
حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی نے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کے ریمارکس پر اعتراض کیا۔ پارٹی ترجمان جی نرنجن نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کہ مرکزی وزیر بننے کے باوجود کشن ریڈی بی جے پی کے ریاستی صدر کی طرح بیانات دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات مرکزی وزیر کے عہدے کو زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آنے والے ہندوئوں کو کیا اٹلی بھیج دیا جائے کہنا قومی جماعت کے صدر کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں خواتین کا احترام کیا جانا چاہئے اور کشن ریڈی کو ہندو تہذیب کا خیال کرتے ہوئے خواتین سے متعلق ریمارکس میں احتیاط کرنی چاہئے۔ سونیا گاندھی نے ملک کے لیے کئی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے شوہر راجیو گاندھی ملک کے اتحاد و سالمیت کے لیے قربان ہوگئے۔ سونیا گاندھی نے ہندوستان کی تہذیب کو اختیار کیا اور ملک کی ترقی میں ان کا اہم رول ہے۔ موتی لال نہرو، جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے راہول گاندھی ملک کی تعمیر نو میں مصروف ہے۔ راہول گاندھی کو ملک کی تہذیب کے بارے میں سبق دینے سے زیادہ بہتر ہے کہ کشن ریڈی تمام مذاہب، زبانوں اور تہذیب کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہریت قانون کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی کو نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے۔ کانگریس نے غیر دستوری قانون کی مخالفت کی ہے جس کے تحت حکومت مذہبی بنیادوں پر شہریت فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے ہندو، عیسائی، سکھ، جین اور بدھ باشندوں کو شہریت کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ اس قانون میں مسلمانوں کا نام شامل نہیں ہے۔ دستور ہند نے مذہبی بنیادوں پر شہریت فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔