خرطوم، 29 اپریل :سوڈان میں ملکی فوج کے خلاف لڑنے والی نیم فوجی دستے کے سربراہ جنرل محمد حمدان دفلو نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک بات چیت نہیں کریں گے جب تک کہ لڑائی ختم نہیں ہو جاتی۔بی بی سی کے مطابق دفلو، جسے حمداتی کے نام سے جانا جاتا ہے ، نے کہا کہ تین روزہ جنگ بندی میں توسیع کے بعد سے ان کے جنگجو بمباری کر رہے ہیں۔ ہم سوڈان کو تباہ نہیں کرنا چاہتے ،انہوں نے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کو تشدد کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جنگ بندی ہونی چاہیے ۔ دشمنی ختم کریں۔ اس کے بعد ہم بات کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا جنرل برہان سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن وہ سابق صدر عمر البشیر کے وفاداروں کو لانے انہیں غدار سمجھتے ہیں، جنہیں 2019 میں فوج اور آر ایس ایف نے سڑکوں پر احتجاج کے بعد معزول کر دیا تھا۔