جرمنی، فرانس ، اٹلی اور دیگر ممالک کی جانب سے شہریوںکا انخلا۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک کی کوششیں تیز
خرطوم: سوڈان میں 2 حریف جرنیلوں کی وفادار افواج کے درمیان لڑائی دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ افریقی ملک سے کئی ممالک اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔میڈیاکے مطابق غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے پروازیں پیر کو جاری رہیں، سینکڑوں افراد فوجی طیاروں کے ذریعے ملک سے نکل گئے۔غیر ملکی افراد دارالحکومت خرطوم سے بھی اقوام متحدہ کے ایک طویل قافلے کی صورت میں نکلے جبکہ لاکھوں خوفزدہ مکین اپنے گھروں کے اندر رہ گئے، کافی لوگوں کے پاس پانی اور خوراک بھی کم رہ گیا ہے۔50 لاکھ آبادی کے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستوں میں 15 اپریل سے سڑکوں پر زبردست جھڑپیں جاری ہیں، جہاں جلے ہوئے ٹینک، تباہ شدہ عمارتیں ہیں جبکہ دکانوں کو بھی لوٹا گیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی غریب ترین قوموں میں سے ایک میں وسیع تر افراتفری اور انسانی بحران کے خدشہ ہے جبکہ 420 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔امریکی اسپیشل فورسز نے اتوار کو سفارت خانے کے تقریباً 100 عملے اور ان کے رشتہ داروں کے لیے ایک امدادی مشن کا آغاز کیا، چنوک ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انھیں جبوتی کے ایک فوجی اڈے تک بحفاظت پہنچایا گیا۔جو بائیڈن نے اتوار کو بتایا تھا کہ جب تک سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کی موجودگی کی ضرورت ہوگی اس وقت تک امریکی افواج جبوتی میں امریکی اہلکاروں اور دیگر افراد کی حفاظت کے لیے تعینات رہیں گی۔برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے کہا کہ برطانیہ کی فروسز نے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ریسکیو کیا جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹورڈو نے بتایا کہ ان کے ملک نے عاضی طور پر انخلا کا آپریشن معطل کر دیا ہے۔انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ہمارے سفارت کار محفوظ ہیں اور وہ ملک کے باہر سے کام کرر ہے ہیں۔دوسری جانب، جرمنی اور فرانس نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اور دیگر ممالک کے شہروں کا انخلا شروع کر دیا ہے۔2 فرانسیسی جہازوں نے 200 کے قریب افراد کو بحفاظت جبوتی منتقل کیا۔جرمن فوج نے بتایا کہ سوڈان بھیجے گئے تین فوجی طیاروں میں 101 افراد کا بحفاظت انخلا کیا گیا ہے۔بندیشور نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ پہلا ایئر بس اے 400 ایم مقامی وقت کے مطابق نصف شب کے قریب ’اردن میں بحفاظت اترا‘۔ان ممالک کی وزارت خارجہ کے مطابق 113 افراد کو لے جانے والا ایک اور جہاز اردن کی جانب رواں دواں ہے، اٹلی نے کل تقریباً 300 افراد کو بحفاظت منتقل کیا ہے۔میڈرڈ کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے ٹوئٹ کیا کہ ہم نے سوڈان میں جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔آئرلینڈ نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنی ایمرجنسی ٹیموں کو بھیجا ہے تاکہ ان کے شہریوں کے انخلا میں معاونت کی جاسکے۔شمال میں سوڈان کے بڑے پڑوسی مصر نے کہا کہ اس نے 436 شہریوں کو زمینی راستے سے نکالا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان سمیت دیگر ممالک کے 150 شہریوں کو بحفاظت سعودی عرب پہنچا دیا گیا تھا اور وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی سفارتی عملے کا انخلا بھی مکمل ہوگیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عام شہریوں کے پہلے اعلانیہ انخلا کے بعد سعودی عرب کی نگرانی میں مختلف ممالک کے 150 شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ہندوستان سمیت متعدد ممالک کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں جبکہ سوڈان کا مرکزی ایئرپورٹ جھڑپوں کی وجہ سے بدستور بند ہے۔ ٹوئٹر پر مسلح پیراملٹری گروپ نے کہا کہ ’ریپڈ سپورٹ فورسز نے امریکی فورسز مشن سے سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو سوڈان سے نکالنے کے لیے رابطہ کیا جو 6 جہازوں پر مشتمل تھا‘۔اس سے قبل سوڈان کی فوج کے چیف عبدالفتح البرہان سے متعدد ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے اپنے شہریوں کے انخلا اور سفارتی مشنز کے تحفظ کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔