سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کا مقصد ہماری بین الاقوامیساکھ کو خراب کرنا اور ہمیں تقسیم کرنا ہے:کرسٹیشون

,

   

Ferty9 Clinic

اسٹاکہوم : سویڈن کے وزیر اعظم اْلف کرسٹیشون نے کہا ہے کہ سویڈن میں قرآن کے نسخے کو نذرآتش کرنے کا مقصد ہمارے ملک کی بین الاقوامی حیثیت کو خراب کرنا اور ہمیں تقسیم کرنا ہے۔کرسٹیشون نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں حالیہ دنوں میں سویڈن میں قرآن سوزی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ سویڈن میں قرآن سوزی کے اقدامات کو اس طرح دِکھایا جا رہا ہے کہ جیسے یہ حکومت کی طرف سے کئے جا رہے ہوں۔ ہم قرآن پر حملوں کے بارے میں متعلقہ حکام کے ساتھ ڈائیلاگ کی حالت میں ہیں اور حالات پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں، سویڈن کو نقصان پہنچانے کی خاطر اور دیگر حکومتوں کی حمایت سے جاری غلط معلومات پھیلانے والی مختلف مہموں کا سامنا ہے۔کرسٹیشون نے کہا ہے کہ ملک میں قرآن سوزی کا مقصد بین الاقوامی سطح پر سویڈن کی حیثیت کو نقصان پہنچانااور ہمیں تقسیم کرنا ہے۔ مقدس کتابوں کو نذرِ آتش کیا جانا ہماری سکیورٹی پالیسی کو مسائل میں ڈال رہا ہے۔ ہمارے ملک کو غلط شکل میں متعارف کروا یا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ غلط معلومات پھیلانے والی مہمات سویڈن کے شہریوں کو بھی اور بیرونِ ملک سویڈش کمپنیوں کو بھی مسائل میں مبتلا کر رہی ہیں۔ یہی نہیں ملک کی داخلہ سلامتی کو ضعیف کر کے دہشت گردی کے خطرے میں اضافہ کر رہی ہیں۔واضح رہے کہ سویڈن خفیہ ایجنسی نے کل جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ قرآن سوزی کے حالیہ واقعات اور عالمِ اسلام میں احتجاجی مظاہروں نے اسکینڈینیویئن قوم کے تاثرکو خراب کیا ہے۔ ان واقعات کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی الارم کا درجہ بلند کر دیا گیا ہے۔