سپریم کورٹ نے تمام مذاہب میں لڑکیوں کی شادی کی عمر لڑکوں کے برابر کرنے کی عرضی کو مسترد کر دیا

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے تمام مذاہب میں لڑکیوں کی شادی کی عمر لڑکوں کے برابر کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس معاملے میں بڑا تبصرہ کرتے ہوئے سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ آئین کے محافظ کے طور پر عدالت کو کوئی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کو بھی آئین کی حفاظت کا اتنا ہی حق حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کسی بھی قانون میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ قانون میں ترمیم کا معاملہ ہے۔ ایسے میں عدالت پارلیمنٹ کو اس معاملے میں قانون لانے کا حکم نہیں دے سکتی، اگر عدالت شادی کی 18 سال کی عمر کو منسوخ کرتی ہے تو پھر شادی کے لیے کم از کم عمر نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے عرضی گزار بی جے پی لیڈر اور وکیل اشونی اپادھیائے سے کہا کہ یہ کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ہمیں یہ نہ سکھائیں کہ آئین کے محافظ کے طور پر ہمیں کیا کرنا چاہیے۔