پانی میں کے سی آر اور کے ٹی آر کی تصاویر بہائی گئیں
حیدرآباد۔14 ۔ اگست (سیاست نیوز) دونوں شہروں میں بارش کے ساتھ ہی سڑکوں کی تباہی اور جگہ جگہ گڑھوں میں پانی جمع ہوجانے سے عوام کو درپیش دشواریوں کے خلاف کانگریس کے اقلیتی قائدین نے منفرد احتجاج منظم کیا ۔ اقلیتی قائدین نے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے گڑھوں میں موجود پانی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ٹی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کی تصاویر کو بہایا تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کی جاسکے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل کے ہمراہ پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین ، حیدرآباد سٹی کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین سمیر ولی اللہ ، ساجد شریف اور دیگر قائدین موجود تھے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ چیف منسٹر اور ان کے فرزند دونوں شہروں کی سڑکوں کی تباہی کے لئے راست طورپر ذمہ دار ہیں۔ چیف منسٹر کے پاس شہر کے دورے اور سڑکوں کی ابتر صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وقت نہیں ہے۔ کے ٹی آر ڈسمبر 2018 ء تک پانچ برسوں میں وزیر بلدی نظم و نسق کی حیثیت سے شہر کی ترقی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ یہ دونوں پرگتی بھون میں شاہی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گریٹر حیدرآباد کے گزشتہ انتخابات میں دونوں نے عوام کو گمراہ کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے ۔ بلدیہ پر اقتدار کے بعد عوام سے کئے گئے وعدے فراموش کردیئے گئے ۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ شہر کی سڑکیس عوامی زندگی کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں 8783 سڑک حادثات میں 1155 افراد کی موت واقع ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی ابتر صورتحال حادثات کے لئے ذمہ دار ہیں۔ جاریہ سال 30 جون تک 1258 حادثات ریکارڈ کئے گئے ۔ حادثات میں زیادہ تر ٹو وہیلرس گاڑیوں کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بارش کو ذمہ دار قرار دے کر اپنا دامن نہیں بچاسکتی ۔ کمشنر بلدیہ دانا کشور نے 4000 سے زائد گڑھے ہونے کا اعتراف کیا ہے جبکہ حقیقت میں یہ تعداد اور بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے شہر کی ترقی کو نظر انداز کردیا ہے۔ دوسری میعاد میں چیف منسٹر نے آج تک جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس ورکرس نے کے سی آر اور کے ٹی آر کی ہزاروں تصاویر کو پانی میں بہایا تاکہ عوام کو بتایا جائے کہ سڑکوں کی خرابی کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔
