آمد و رفت کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ جان بچانے کیلئے ضروری :گڈکری
نئی دہلی۔ 5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)گاڑیوں سے متعلق نئے قوانین کے تحت آمدورفت کی خلاف ورزی کرنے پر بڑی رقوم کے جرمانے کے سلسلے میں مرکزی وزیر برائے نقل وحمل وشاہراہ نتن گڈکری نے جمعرات کو کہا ہے کہ سزاکے طور پر بھاری جرمانے کا فیصلہ سرکاری خزانہ بھرنے کے لئے نہیں بلکہ ڈرائیوروں کو قانون کی پاسداری کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے ۔ نتن گڈکری نے انڈین آٹوموبائل پروڈیوسر آرگنائزیشن (سیام) کے سالانہ کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک میں سڑک حادثوں میں بڑی تعداد میں اموات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی پاسداری ضروری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بڑی تعداد میں ایسے ڈرائیور ہیں جن کے لئے بھاری جرمانے کے بغیر آمدورفت قانون کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے ۔آمدورفت قانون کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے کی رقم میں کئی گنا اضافہ کو صحیح قرار دیتے ہوئے مسٹر گڈکری نے کہا کہ یہ فیصلہ کافی غوروفکر اور مختلف فریقوں سے تبادلہ خیال کے بعد ہی کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ یکم ستمبر سے ملک میں آمدورفت قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقم میں زبردست اضافہ کیا گیا ہے اور اس پر کئی ریاستوں نے عمل بھی شروع کردیا ہے ۔ بھونیشور میں بدھ کو ایک آٹو رکشا ڈرائیور پر مختلف دفعات کے تحت 47 ہزار 500 روپے کا جرمانہ کیا گیا۔ ہریانہ کے گروگرام میں بھی پولس نے کئی لوگوں سے بڑی رقم کے چالان کاٹے ۔مسٹر گڈکری نے کہا کہ آمدورفت قوانین میں تبدیلی کے پیچھے حکومت کی سوچ پیسہ کمانا نہیں ہے بلکہ ڈرائیوروں کو سڑکوں پر چلتے وقت قوانین کا پوری طرح ماننے کے لئے تحریک دینا ہے ۔سڑک حادثوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر گڈکری نے کہا کہ ہر سال پانچ لاکھ سڑک حادثے ہوتے ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کی وقت سے پہلے موت ہوجاتی ہے ۔ مرنے والوں میں 60 فیصد کا تعلق 18 سے 35 برسوں کے عمرکے لوگوں کی ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ان کی جان بچانے کی ضرورت ہے ۔ قانون کا احترام اور اس کے تئیں لوگوں میں خوف نہیں ہو یہ اچھی صورت حال نہیں ہے ۔ لوگوںسے آمدورفت قوانین کی پاسداری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ایسی صورت حال کی نوبت ہی نہیں آنی چاہئے کہ جرمانہ بھرنا پڑے ۔