حیدرآباد : /16 نومبر (سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے خاص طور پر موٹر سائیکل کی دوسری نشست پر بیٹھنے والے کیلئے بھی ہیلمٹ کو لازم کردیا گیا ہے جس پر عوام نے مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کی سڑکوں پر 25 تا 30 کیلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار نہیں ہوسکتی ۔ان حالات میں حادثات کا کیا تصور اور جب حادثات اور اموات کا کوئی خطرہ نہیں تو پھر سختی کس بات کی۔ شہریوں کی ان باتوں کو نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے غلط ثابت کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد اب حادثات کا شہر بنتا جارہا ہے۔ تیز رفتار گاڑی چلانے کو فیشن اور اسٹائل تصور کیا جارہا ہے جو حادثات اور اموات کا سبب ہے۔ رپورٹ کے مطابق سڑک حادثات کی فہرست میں حیدرآباد ملک میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ بنگلور سڑک حادثات کے معاملہ میں سرفہرست ہے۔ بغیر ہیلمٹ گاڑی چلاتے ہوئے کرتب بازی کرنا فیشن بن گیا ہے جو نہ صرف خود گاڑی چلانے والوں بلکہ دیگر افراد کیلئے بھی مشکلات کا سبب ہے۔ع
