سکریٹریٹ اور جی ایچ ایم سی ہیڈکوارٹر میں کورونا کیسس سے سنسنی

   

Ferty9 Clinic

دفاتر کا تخلیہ، عہدیدار اور ملازمین کورنٹائن، عمارتوں کی صفائی کا آغاز
حیدرآباد۔ 8 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کے بڑھتے واقعات اب سرکاری دفاتر کا تعاقب کرنے لگے ہیں۔ تلنگانہ سکریٹریٹ اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن دفاتر آج کورونا پازیٹیو کیسس منظر عام پر آئے جس کے بعد ان دفاتر کے ملازمین میں سنسنی دوڑ گئی۔ تلنگانہ سکریٹریٹ کی عارضی عمارت کے وی آر بھون اور اس سے متصل جی ایچ ایم سی کے ہیڈ آفس میں بعض ملازمین اور عہدیداروں میں کورونا پازیٹیو کی علامات پائی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر کے بھون میں فینانس ڈپارٹمنٹ کے دو ملازمین کورونا پازیٹیو پائے گئے جو رشتے میں باپ اور بیٹا ہیں۔ عمارت کی ساتویں منزل پر محکمہ فینانس کے دفاتر ہیں۔ دو ملازمین میں کورونا پازیٹیو پائے جانے کے بعد اس منزل پر کسی بھی ملازم اور عہدیداروں کو داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ ملازمین کو ہدایت دی گئی کہ وہ آئندہ اطلاع تک ڈیوٹی پر حاضر نہ ہوں ۔ دونوں ملازمین سے قربت رکھنے والے دیگر ملازمین کو ہوم کورنٹائن کیا گیا ہے۔ بی آر کے بھون میں کورونا پازیٹیو کا یہ پہلا معاملہ ہے جس کے بعد عمارت کی دیگر منزلوں پر واقع مختلف محکمہ جات کے ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی ملازمین اعلی عہدیداروں سے اجازت لے کر اپنے مکانات واپس ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی عہدیداروں و ملازمین نے خود کو سیلف کورنٹائن کرلیا ہے۔ محکمہ فینانس کے 30 ملازمین کو گھروں پر کورنٹائن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ملازمین اور عہدیداروں کے ٹسٹ کئے جائیں گے تاکہ کورونا کا پتہ چلایا جاسکے۔ ایسے ملازمین کی شناخت کی جارہی ہے جو متاثرہ باپ بیٹے سے ربط میں تھے۔ اسی دوران گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ہیڈ آفس میں بھی کورونا نے خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیا۔ چوتھی منزل پر ایک ملازم میں کورونا کی علامات پائی گئیں جس کے بعد ساری عمارت میں سنسنی دوڑ گئی۔ چوتھی منزل کے عہدیداروں اور ملازمین کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت دی گئی اور دفاتر کو سانیٹائز کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ وہاں کے تمام ملازمین کو عہدیداروں نے گھر جانے کی اجازت دے دی اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے طور پر سانیٹائز ہوجائیں۔ ہیڈ آفس میں تقریباً 1500 سے زیادہ ملازمین برسر خدمت ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ پرگتی بھون میں ایک عہدیدار اور ملازم میں کورونا کی علامات پائی گئی تھیں۔