سکریٹریٹ اور یادگار شہیدان تلنگانہ کی تعمیرمیں بے قاعدگیوں کی جانچ

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہدایت، تخمینہ سے زیادہ رقومات خرچ کرنے کا الزام
حیدرآباد۔/11 فروری، ( سیاست نیوز) سابق بی آر ایس حکومت کے مختلف پراجکٹس میں بے قاعدگیوں کی جانچ کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈی گڈہ بیاریج، کالیشورم پراجکٹ، مشن بھگیرتا، برقی پراجکٹس اور دیگر معاملات میں حکومت نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ تازہ معاملہ میں چیف منسٹر نے نئے سکریٹریٹ کی تعمیر، یادگار شہیدان تلنگانہ اور 125 فیٹ بلند ڈاکٹر بی آر امبیڈکر مجسمہ کی تنصیب کی جانچ کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر کا کہنا کہ سکریٹریٹ، یادگار شہیدان تلنگانہ اور مجسمہ امبیڈکر کے معاملہ میں تخمینہ سے زیادہ رقومات خرچ کی گئیں اور ٹنڈرس کی طلبی کا طریقہ کار بھی مشتبہ رہا۔ تعمیری کاموں کے معیار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے مذکورہ تینوں پراجکٹس پر تحقیقات کی ہدایت دی ہے۔ بتایا گیا کہ بی آر ایس حکومت نے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے 600 کروڑ کا تخمینہ تیار کیا تھا لیکن 1200 کروڑ خرچ کئے گئے۔ امبیڈکر مجسمہ پر 150 کروڑ خرچ ہوا ۔ سکریٹریٹ اور دیگر تعمیرات میں رقومات کے بیجا استعمال میں شامل حکام کی نشاندہی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ میڈی گڈہ بیاریج میں ناقص کاموں پر ویجلینس نے اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ ویجلینس و دیگر ایجنسیوں کو حکومت نے چوکس کردیا ہے۔1