تعمیراتی کام کی رمضان سے قبل تکمیل کا امکان، مولانا مفتی خلیل احمد نے سنگ بنیاد رکھا، سیاسی اور مذہبی قائدین کی شرکت
حیدرآباد۔25۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ سکریٹریٹ کے احاطہ میں دونوں مساجد کی تعمیر نو کیلئے آج تقریب سنگ بنیاد منعقد کی گئی جس میں مذہبی اور سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے مسجد دفاتر و معتمدی اور مسجد ہاشمی کے تعمیری کاموں کیلئے رسمی کھدائی کی۔ دو علحدہ مقامات پر مفتی خلیل احمد نے زمین کی کھدائی کرکے خصوصی دعا کی۔ قبل ازیں مسجد کی اراضی پر نماز ظہر باجماعت ادا کی گئی۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے امامت کی جبکہ مفتی محمود زبیر قاسمی نے اذان دی۔ گزشتہ جولائی میں نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کیلئے قدیم عمارتوں کو منہدم کرنے کے دوران دونوں مساجد کو شہید کردیا گیا تھا ۔ مساجد کی موجودہ مقام پر تعمیر نو کیلئے مسلمانوں نے احتجاج کیا تھا ۔ حکومت کی جانب سے سنگ بنیاد کے سلسلہ میں اگرچہ کئی تاریخیں مقرر کی گئیں لیکن آخر کار آج سنگ بنیاد کی رسم ادا کی گئی ۔ پولیس اور سیکوریٹی حکام نے میڈیا اور عوام کو سکریٹریٹ کے احاطہ میں داخلہ کی اجازت نہیں دی۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی ، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم، اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی ، ارکان مقننہ فاروق حسین، احمد پاشاہ قادری، احمد بلعلہ ، ڈی ناگیندر، سابق ایم ایل سی فریدالدین ، مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی ، مولانا حامد محمد خاں ، جناب محمد اظہرالدین ، حافظ پیر شبیر احمد ، مفتی قیاس رحمانی ، مولانا مسعود حسین مجتہدی ، وقف بورڈ ارکان ڈاکٹر نثار حسین حیدرآغا ، وحید احمد ، سابق صدور نشین مسیح اللہ خاں ، محمد قمرالدین ، عنایت علی باقری ، اکبر حسین، رحیم الدین انصاری، صدرنشین کھادی اینڈ ولیج بورڈ مولانا یوسف زاہد ، کمشنر پولیس انجنی کمار ، آر اینڈ بی انجنیئر ان چیف گنپت ریڈی کے علاوہ یونائٹیڈ مسلم فورم اور ٹی آر ایس اقلیتی قائدین کی کثیر تعداد شریک تھی۔ مساجد کی تعمیر نو کے آغاز کے موقع پر حکومت کی جانب سے سنگ بنیاد کی تختی نہیں لگائی جاسکی۔تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مساجد کیلئے 1500 گز اراضی مختص کی ہے اور تعمیری کام جلد مکمل کرنے ہدایت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کی تکمیل کرکے مساجد کی تعمیر کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مساجد کا ڈیزائین ترکی طرز تعمیر پر ہے اور ان کا شمار ملک کی خوبصورت مساجد میں ہوگا۔ سکریٹریٹ کے مساجد 700 گز اراضی پر تھیں لیکن چیف منسٹر 1500 گز اراضی مختص کی ہے۔ مسجد کے اندرونی اور بیرونی حصہ میں سینکڑوں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ بڑی مسجد کے وضو خانے کے اوپری حصہ میں امام کیلئے مکان تعمیر کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کیلئے نماز کا علحدہ نظم کیا جارہا ہے۔ تعمیر پر جملہ 2.9 کروڑ روپئے مختص کئے گئے اور ایک کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کے سی آر سیکولر قائد ہیں اور وہ وعدہ کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ رمضان المبارک سے قبل مساجد کی تعمیر کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ تراویح اور عیدین کی نمازیں نئی مساجد میں ادا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ا قلیتوں کے مسائل کی یکسوئی میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مساجد وقف بورڈ کے زیر انتظام رہیں گی۔ وزیر داخلہ اور صدرنشین وقف بورڈ نے چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا۔ ر