سکریٹری لیجسلیچر کو ایک ہزار روپئے کا جرمانہ،عدالت کے احکامات نظر انداز کرنے پر ہائی کورٹ کی رولنگ

   

Ferty9 Clinic


حیدرآباد: آندھراپردیش ہائی کورٹ نے لیجسلیچر سکریٹری پی بال کرشنما چاریلو پر عدالتی احکامات پر عمل آوری نہ کرنے کیلئے ایک ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر وہ جرمانہ ادا نہ کریں تو انہیں ایک ہفتہ کی قید سادہ کی سزا دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ 2017 ء میں اسمبلی کے بعض ملازمین ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے، تاکہ حکومت کی جانب سے بقایہ جات کی اجرائی پر فیصلہ حاصل کیا جائے۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بقایہ جات جاری کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی۔ عہدیدار عدالتی احکامات پر عمل کرنے سے قاصر رہے جس پر ملازمین نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ عدالت نے پرنسپل سکریٹری فینانس ایس ایس راوت ، اکاؤنٹس آفیسر موہن راؤ اور سکریٹری لیجسلیچر بال کرشنما چاریلو کو عدالت طلب کیا ۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں نے بتایا کہ اسمبلی سکریٹری کی جانب سے بلز موصول نہیں ہوئے ہیں۔ لہذا وہ بقایہ جات ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ہائی کورٹ نے جان بوجھ کر احکامات کو نظر انداز کرنے کیلئے سکریٹری لیجسلیچر پر جرمانہ عائد کیا۔ عدالت نے سکریٹری کی معافی کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔