20 جنوری کے واقعہ کی 25 جنوری کو وضاحت ۔ دونوں طرف کئی فوجی زخمی
نئی دہلی: مشرقی لداخ میں ہندوستانی اور چینی دستے اپنی کشیدہ صورتحال کے درمیان 20 جنوری کو شمالی سکم کے سطح سمندر سے کافی اونچائی والے علاقے ناکولا میں ایک دوسرے کے ساتھ جھڑپ میں ملوث ہوئے ۔ ہندوستانی فوج نے پیر کو اس واقعہ کی وضاحت میں اُسے معمولی جھڑپ قرار دیا ۔ ایک بیان میں انڈین آرمی نے کہاکہ جھڑپ کے بعد مسلمہ پروٹوکول کے مطابق مقامی طورپر تعینات کمانڈروں نے معاملہ کی یکسوئی کرلی ۔ ناکولا کا واقعہ پیر کو منظرعام پر آیا تھا جب دونوں فوجوں کے کمانڈروں نے مشرقی لداخ میں کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش میں تقریباً 16 گھنٹے طویل میٹنگ کا اختتام کیا تھا ۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں طرف کے فوجیوں کو ناکولا میں پیش آئی دوبدو جھڑپ میں معمولی زخم آئے۔ ہندوستان کی طرف چار فوجی اور چین کے 20فوجی زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ شمالی سکم میں حقیقی خط قبضہ ( ایل اے سی ) کے پاس کی تبدیلیوں سے واقف لوگوں نے بتایا کہ چینی فوجیوں نے ناکولا میں سرحد کی ہندوستانی سمت گھسنے کی کوشش کی لیکن اُنھیں ہندوستانی ملٹری پرسونل نے روک دیا ۔فوجیوں کے مابین تازہ جھڑپیں گزشتہ دس ماہ سے طویل تعطل کو ختم کرنے کیلئے کور کمانڈر کی سطح پر ہونے والی بات چیت سے پہلے ہوئی ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جھڑپ میں دونوں اطراف کے فوجی زخمی ہوئے ہیں اور صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چینی فوجیوں نے پھر سے ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے ہندوستانی فوجیوں نے ناکام بنا دیا اور چینی فوجیوں کو کرارا جواب دیا۔ ذرائع کے مطابق کمانڈروں کی بات چیت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کے بارے میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی ہے لیکن فوج کو پیچھے ہٹانے کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے ۔