سیاست میں شخصی مخاصمت

   

Ferty9 Clinic

نظر نظر میں ہے کامرانی ، قدم قدم پر ہے کامیابی
مگر کوئی مسکرا کے دیکھے تو ہار جانا بھی جانتا ہوں
سیاست میں شخصی مخاصمت
ہندوستان کی سیاست میں مسلسل گراوٹ آتی جا رہی ہے ۔ سیاست میں اخلاقیات اور اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیاسی مخالفین کو شخصی دشمن کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے ۔ اس کے علاوہ حالیہ عرصہ میں دیکھنے میں آیا ہے کہ سیاسی قائدین ایک دوسرے کے خلاف شخصی تبصرے اور ریمارکس کرتے ہوئے نشانہ بنانے پر اتر آئے ہیں۔ کسی کی شخصیت کو تو کسی کے افراد خاندان کو تنازعات میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ کل آندھرا پردیش میں سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے ان کی اہلیہ کے خلاف وائی ایس آر کانگریس قائدین کے ریمارکس پر جس رد عمل کا اظہار کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ سیاستدان بھی شخصی حملوں سے دلبرداشتہ ہونے لگے ہیں۔ یہ سیاست میں اخلاقیات کے فقدان کا نتیجہ ہے ۔ ہندوستانی سیاست کبھی اخلاق و اصولوں کی تابع ہوا کرتی تھی ۔ سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے اچھے دوست بھی ہوا کرتے تھے ۔ نظریاتی بنیادوں پر سیاسی اختلاف کرنے کے باوجود شخصی تعلقات کو کبھی بگڑنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا تھا ۔ ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور خدمات کا بھی اعتراف کیا جاتا تھا ۔ تاہم آج کی سیاست اس سے الگ ہوگئی ہے ۔ اقتدار کی ہوس اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ اقتدار حاصل کرنے یا اس کو برقرار رکھنے کیلئے کسی بھی حد تک گرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کا الزام ہے کہ آندھرا پردیش کے دو وزراء نے ان کی اہلیہ کے خلاف ریمارکس کئے ہیں۔ چندر ابابو نائیڈو ایک انتہائی تجربہ کار اور گھاگھ سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف متحدہ ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے بلکہ منقسم ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے کام کیا ہے بلکہ وہ قومی سطح کی سیاست میں بھی سرگرم رول ادا کرچکے ہیں۔ وہ سیاست کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ اتار چڑھاو انہوں نے دیکھے ہیں لیکن جس طرح کل وہ جذبات سے انتہائی مغلوب ہوگئے اور پریس کانفرنس میں بلک بلک کر رونے لگے اس سے ان کی تکلیف کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس سے سیاست میں اخلاقیات کے فقدان کا بھی پتہ چلتا ہے ۔
سیاسی اختلاف سیاستدانوں کا حق ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ عوام کے درمیان رجوع ہوتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی بھی جماعت کو دوسری جماعت کی ناکامیوں اور خامیوں کو نشانہ بنانے کا پورا حق حاصل ہے لیکن شخصی حملے کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ سیاست کو اخلاقیات اور اصولوں کا پابند بنایا جانا چاہئے ۔ کسی بھی صورتحال میں بطور خاص افراد خاندان اور خواتین کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ واقعی اگر کوئی الزام ایسا ہے جس کو منظر عام پر لانا ضروری ہے اور اس کا عوامی امور سے تعلق ہو تو پھر الگ بات ہے لیکن محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر خواتین کو گھسیٹنا کسی بھی سیاست دان یا سیاسی لیڈر کو ذیب نہیں دیتا اور سب کو اس سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش کرنا ہر جماعت کا حق ہے اور ایسا کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا ۔ انہیں ایک دوسرے پر سیاسی اعتبار سے تنقیدیں بھی کرنے کا مکمل حق حاصل ہے ۔ یہی ان کی سیاست زندگی کا لازمی حصہ ہے لیکن سیاسی اختلافات کو شخصی عناد اور مخاصمت کا رنگ دینا ہرگز بھی مناسب نہیں کہا جاسکتا ۔ کل پیش آنے والے واقعات کے بعد بھی جس طرح کے ردعمل ظاہر کئے جا رہے ہیں ان میں بھی کسی طرح کے افسوس کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ مزید تبصرے کرتے ہوئے اسے ڈرامہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہ اگر ڈرامہ بھی ہو تب بھی کسی کو کسی لیڈر کے افراد خاندان یا خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانے کا حق نہیں پہونچتا ۔
حالیہ عرصہ میں سیاسی قائدین کی زبان بھی بہت زیادہ حد تک بگڑ گئی ہے ۔ عوامی زندگی میں انتہائی غیر شائستہ زبان کا استعمال ہونے لگا ہے ۔ بات صرف چندرا بابو نائیڈو پر کی جانے والی تنقیدوں تک یا آندھرا پردیش تک محدود نہیں ہے ۔ بحیثیت مجموعی سارے ملک کی سیاست کا یہی حال ہوتا جا رہا ہے جو تشویش کا باعث ہے ۔ جمہوری عمل میں اپنی بات کہنے کا ہر ایک کو حق حاصل ہے لیکن اس کے معیارات پر کسی کو بھی سمجھوتہ نہیںکرنا چاہئے ۔ سیاسی اور عوامی زندگی کو شخصی مخالفتوں سے معمور نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اخلاق و اصولوں کا دامن چھوڑنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جانی چاہئے تاکہ عوام پر اس کے منفی اثرات پڑنے نہ پائیں۔
ورون گاندھی کا ایک اور مکتوب
بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی ایک بار پھر اپنی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تین زرعی قوانین کو واپس لینے میں ایک سال کی تاخیر کی جس کے نتیجہ میں 700 کسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ورون گاندھی نے راست وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک سال قبل ہی قوانین واپس لئے جاتے تو ان کسانوں کی زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔ انہوں نے مہلوک کسانوں کے افراد خاندان کو فی کس ایک کروڑ روپئے ایکس گریشیا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے اورکہا کہ کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت کے مسئلہ کا بھی فیصلہ کرلیا جانا چاہئے ۔ ورون گاندھی حالیہ عرصہ میں اپنی ہی جماعت کے موقف سے برعکس بیانات دیتے ہوئے بی جے پی کیلئے مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی تائید اور لکھیم پور کھیری واقعہ کی مذمت کی تھی جس پر انہیں پارٹی قومی عاملہ سے باہر کردیا گیا تھا ۔ اس کے باوجود ورون اپنی تنقیدیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ورون گاندھی کا یہ موقف بی جے پی کیلئے اترپردیش میں مشکلات کا سبب بن سکتا ہے ۔ پارٹی ان کے تعلق سے کیا حکمت عملی تیار کرے گی وہ اہمیت کی حامل ہوگی ۔