تلنگانہ میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے ۔ تمام جماعتیں ابھی سے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے نام پر ایک دوسرے کو تنقیدوں کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہی ہیں ۔ شخصی تنقیدیں بھی عام ہوگئی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بدزبانی کا چلن بڑ ھ گیا ہے ۔ خاص طور پر غیر پارلیمانی الفاظ کا اور غیرشائستہ الفاظ کا استعمال پہلے سے بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔ جس طرح سے سابق میں سیاسی اختلافات کے دوران بھی اخلاقیات اور معیارات کا خیال رکھا جاتا تھا اور عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا اس کو اب ختم کردیا گیا ہے ۔ اب مخالف کو اپنا دشمن سمجھا جا رہا ہے اور اس کے خیال بدزبانی کی جا رہی ہے ۔ تلنگانہ کی سیاست میں بھی یہ روایت عام ہوگئی ہے ۔ خاص طور پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کے قائدین کی آپسی توتو میں میں نے سیاسی ماحول کو پراگندہ کردیا ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے تقریبا ہر مسئلہ پر ٹی آر ایس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس پر تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ سیاسی اختلاف کا حصہ ہے اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہے لیکن اس اختلاف کیلئے جس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے اور سیاسی اختلاف کے گرتے معیارات کی عکاسی کرتی ہے ۔ چیف منسٹر کے خلاف بھی جو الفاظ استعمال کئے جا رہے ہیں وہ بھی ناقابل بیان ہیں۔ اسی طرح ٹی آر ایس کے قائدین کی جانب سے جو جوابات دئے جا رہے ہیں وہ بھی حد درجہ افسوسناک ہے ۔ شخصی تنقید کے جواب میںشخصی تنقید کی جا رہی ہے اور نازیبا الفاظ کے جواب میںانتہائی نازیبا الفا ظ استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اس سے سیاسی معیارات اور اخلاقیات کے فقدان کا پتہ چلتا ہے اور اس سے ریاست کے رائے دہندوں پر اور عوام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سیاسی قائدین کے امیج میںمزید گراوٹ آسکتی ہے ۔ پہلے ہی عوام میں سیاسی قائدین کے تعلق سے کچھ اچھی رائے نہیں پائی جاتی ہے اور اس طرح کے تبصروںاور ناشائستہ زبان کے استعمال سے ان کا امیج اور بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رکھی جانی چاہئے ۔ سیاسی قائدین اور جماعتیں ہر مسئلہ میں ڈوغلا پن اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ عوام کو ہمیشہ ہی اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ عوام کو کئی مرتبہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ گری ہوئی باتوں سے گریز کریں ۔ مخالفین کے تعلق سے بھی عزت و احترام والی زبان استعمال کی جائے ۔ کسی اختلاف کو شخصی دشمنی کی حد تک شدید نہ کیا جائے لیکن جب خود ان ہی سیاسی قائدین کی بات آتی ہے اور ان کے اپنے کردار کی بات آتی ہے تو کسی کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ سیاسی قائدین ایک دوسر ے کو پاگل کتے کی مثالیں تک دینے پر آگئے ہیں ۔ یہ انتہائی مذموم عمل ہے ۔ سیاسی قائدین کو اس طرح کے ریمارکس کرتے ہوئے خود اپنی ذہنی سطح کی عکاسی نہیں کرنی چاہئے ۔ عوام میںاچھے اور برے کی تمیز بانٹنے والے اور عوام کو ہمیشہ ہی تلقین کرنے والے اگر خود اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے لگیں اور سیاسی مخالفین کو شخصی دشمن کی طرح دیکھا جائے تو پھر عوام کیلئے کچھ بھی کہنا ممکن نہیں رہ جائے گا ۔ عوام میں اس سے جو غلط مثال قائم ہوگی اس کو سمجھنے کی ضرورت ہوگی ۔ سیاست میںایک دوسرے سے اتفاق اور پھر اختلاف عام بات ہے ۔ ہر کسی کو ہر ایک فیصلے سے کام سے متفق نہیں کیا جاسکتا اوریہی ہماری جمہوریت کی خوبصورتی بھی ہے ۔ لوگ ایک وسرے کی رائے سے اور موقف سے اختلاف کرتے ہیں اور اس اختلاف کی ہمیں اجازت بھی ہے ۔
اختلاف کا مقصد بھی صرف بہتر ی ہونی چاہئے ۔ اختلاف کے نا م پر دشمنی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ ہمارے قائدین کو اقتدار کا یا تو نشہ ہے یا پھر اقتدار حاصل کرنے کی ہوس ہے اسی لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہیں ۔اس بات کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا جا رہا ہے کہ ان کے اقدامات اور ان کے الفاظ سے سماج پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ عوام اس کے کیا نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔ عوام میں ان کی امیج کس حد تک متاثر ہوسکتی ہے ۔ سیاسی قائدین کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے سیاسی نقطہ نظر کو ضرور عوام کے سامنے پیش کرے ۔ دوسروں سے اختلاف ہے تو اسے بھی اجاگر کیا جائے لیکن الفاظ کے استعمال میں سبھی کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے تاکہ خود ان کی ذہنی سطح کا عوام اندازہ کرسکیں۔
