سیاسی اور سماجی حالات کی کارٹونس کے ذریعہ موثر عکاسی

   

شیکھر میوریل ایوارڈ کی پیشکشی، کے ٹی راما راؤ کا خطاب

حیدرآباد۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ سیاسی گہما گہمی اور روزانہ تنقیدوں اور جوابی تنقیدوں کے اس ماحول میں تہذیبی سرگرمیوں، ذہنی سکون اور اطمینان کا باعث ہوتی ہیں۔ فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کو سماج میں بہتر مقام دیا جانا چاہئے تاکہ وہ اپنے فن کو مزید فروغ دے سکیں۔ کے ٹی راما راؤ سوماجی گوڑہ پریس کلب میں مشہور کارٹونسٹ شیکھر کی یاد میں میموریل ایوارڈ 2026 تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کارٹون کے شعبہ میں بہتر مظاہرہ کرنے والے افراد کو ایوارڈ پیش کئے۔ کارٹون کے شعبہ میں کارٹونسٹ ایم نارو اور آرٹسٹ کے شعبہ میں کے سرینواس کو ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ سماجی صورتحال اور سیاسی حالات پر کارٹونس کا غیر معمولی اثر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں آر کے لکشمن جیسے عظیم کارٹونسٹ نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی کارٹونسٹ نے سماج کی تبدیلیوں کو پیش کیا ہے۔ کے ٹی آر نے ایناڈو اور ساکشی اخبارات کے کارٹونسٹ سریدھر اور شنکر کے فن کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے اصولوں کو عام کرنے کی موجودہ حالات میں زیادہ ضرورت ہے۔ ہر شخص کا عقیدہ کسی ایک مذہب پر ہوسکتا ہے اور یہ اس شخص کا انفرادی اور ذاتی معاملہ ہونا چاہئے۔ سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لئے فنکاروں کو اہم رول ادا کرنا چاہئے۔ گزشتہ دو دہوں سے شیکھر اپنے کارٹونس کے ذریعہ غیر معمولی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ انہوں نے شیکھر میموریل ایوارڈ کے منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور کارٹونسٹ کی حوصلہ افزائی کے جذبہ کو سراہا۔ 1؍F