سیاسی قائدین کی پارٹی تبدیلی پر خاموشی

   


انتظار کرو دیکھو کی پالیسی، ایجنسیوں کی کارروائیوں کے بعد حالات تبدیلی کے منتظر

حیدرآباد۔13۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں منگوڈو ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد اپنی سیاسی جماعتوں سے دوسری سیاسی جماعتوں بالخصوص تلنگانہ راشٹرسمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے خواہشمند سیاستدانوں نے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کرنی شروع کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ریاست کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ قائدین اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق فیصلہ کریں گے۔ منگوڈو ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کی صورت میں کئی تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین جو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کا ارادہ کئے ہوئے تھے وہ بھی اپنا ارادہ ملتوی کرچکے ہیں اور کہا جار ہاہے وہ موجودہ صورتحال میں کوئی ایسا فیصلہ کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔ تلنگانہ میں ہوئے ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کی کامیابی کے بعد مرکزی ایجنسیو ں کی ریاست میں سرگرمیو ں میں ہونے والے اضافہ کے بعد کہا جارہا ہے کہ وہ قائدین جو دیگر سیاسی جماعتوں سے تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے وہ بھی فی الحال خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ منگوڈو ضمنی انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کامیابی کے بعد پارٹی کے ارکان اسمبلی کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن مابعد نتائج پارٹی کی جانب سے جو قائدین کی شمولیت کی توقع کی جا رہی تھی ایسا نہیں ہورہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ راشٹر سمیتی کی منگوڈومیں کامیابی کے بعد بی جے پی میں موجود کئی قائدین جو ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے آمادہ ہوچکے تھے وہ مرکزی ایجنسیوں کی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے فی الحال تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔م