اسمبلی انتخابات کے بعد لوک سبھا انتخابات پر ساری توجہ مرکوز رہے گی ۔ کے سی آر کا انتخابی جلسوں سے خطاب
حیدرآباد۔/16 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے انتخابات کو سستے میں لینے والوں کو خبردار کیا اور کہا کہ یہ کوئی میاٹنی شو پکچر نہیں ہے جس کو نظرانداز کردیا جائے، معمولی بھی غفلت اور لاپرواہی کی گئی تو پانچ سال کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے گا۔ بی جے پی فرقہ پرستی اور مذہبی جنون کا سہارا لے رہی ہے۔ کانگریس ناقابل عمل وعدے کرکے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھارہی ہے جبکہ بی آر ایس کی 10 سالہ کارکردگی عوام کے سامنے ہے، عوام کار کو ووٹ دیں۔ بے کاروں کو مسترد کردیں۔ 2024 لوک سبھا انتخابات میں علاقائی جماعتوں کا اہم رول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کو اقتدار سے دوررکھنے میں بی آر ایس سرگرم رول ادا کریگی۔کے سی آر نے آج عادل آباد، بوتھ، نظام آباد رورل اور نرسا پور اسمبلی حلقوں میں پرجا آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی تمام مذاہب و طبقات کے ماننے والے لوگ شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں، ایک دوسرے کے عیداور تہواروں میں گرمجوشی سے شرکت کرتے ہیں مگر بی جے پی کو ہندو۔ مسلم کا اتحاد پسند نہیں ہے، صرف سیاسی مفاد کیلئے بی جے پی فرقہ پرستی پھیلارہی ہے۔ مرکز پر 10 سال سے بی جے پی اقتدار میں ہے۔ ہم جس طرح اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرکے عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں آئندہ پانچ سال میں اقتدار حاصل ہونے پر کیا کیا جائے گا اس کے وعدے کررہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے جس سے بی جے پی مذہبی منافرت پھیلاتے ہوئے ووٹ مانگ رہی ہے۔ عوام کو بی جے پی سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس خود کو ایک قومی جماعت ہونے کا دعویٰ کررہی ہے، سارے ملک کیلئے ایک پالیسی رکھنے کے بجائے ہر ریاست میں علحدہ پالیسیوں پر عمل کررہی ہے۔ تلنگانہ میں جو 6 گیارنٹی کا اعلان کیا گیا وہ دوسری ریاستوں کے عوام سے ایسے وعدے نہیں کئے گئے۔ تلنگانہ میں 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے جبکہ کرناٹک میں صرف تین تا چار گھنٹے برقی سربراہی ہے ۔ تلنگانہ عوام سے وہ ہر جلسہ عام میں سوال پوچھ رہے ہیں کہ انہیں 24 گھنٹے برقی چاہیئے یا تین گھنٹے ۔ ریاست کے عوام 24 گھنٹے برقی کا مطالبہ کررہے ہیں تو انہیں بی آر ایس کو ووٹ دینا ہوگا اگر کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو کرناٹک جیسی صورتحال ہوجائے گی۔ کرناٹک عوام سے تمام وعدے صرف 100دن میں پورے کرنے کا وعدہ کیا لیکن 200 دن ہوگئے مگر 5 گیارنٹی پر عمل نہیں کیا گیا۔ قومی سیاست میں سرگرم رول ادا کرنے انہوں نے علاقائی جماعت ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کی تیسری مرتبہ کامیابی کے بعد ان کی ساری توجہ لوک سبھا انتخابات پر مرکوز ہوگی۔ تلنگانہ سے عوام 16 لوک سبھا حلقوں سے بی آر ایس کو کامیاب بنائیں، وہ مرکز سے فرقہ پرست بی جے پی اور مفاد پرست کانگریس کو دور رکھنے اہم رول ادا کریں گے اور تیسرے محاذ کی تیاری میں کامیاب ہوں گے۔کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس کی تائید کے بغیر کوئی محاذ حکومت تشکیل نہیں دے پائے گا۔ تلنگانہ میں بی آر ایس کو جتنی طاقت ملے گی بی آر ایس مرکز میں اتنا سرگرم رول ادا کرے گی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس نے مفت میں تلنگانہ تشکیل نہیں دیا ہم کئی قربانیاں دے کر پارٹی کو علحدہ ریاست کیلئے مجبور کیا ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی کو تلنگانہ عوام سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ایک نہیں 11 مرتبہ حکومت کا موقع دیا گیا مگر کانگریس ریاست کو ترقی دینے اور عوام کی فلاح و بہبود میں ناکام ہوگئی ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ سے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ن