سیاسی پارٹیوں کے 15 اشتہارات پر الیکشن کمیشن کا امتناع

   

چیف الیکٹورل آفیسر کی وضاحت، منظورہ اشتہارات میں تبدیلی کے سبب کارروائی
حیدرآباد۔/14 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے سیاسی پارٹیوں کے الیکٹرانک میڈیا پر اشتہارات پر پابندی سے متعلق خبروں پر وضاحت جاری کی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر نے وضاحت کی ہے کہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر انفرادی افراد یا سیاسی پارٹیوں کی جانب سے قابل اعتراض مواد پر مبنی اشتہارات کو واپس لینے ہدایت دی گئی ہے۔ ریاستی سطح کی میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے سیاسی پارٹیوں کے اشتہارات کو منظوری دی تھی۔ 9 اکٹوبر 2023 سے سیاسی پارٹیوں کے 416 سے زائد اشتہارات کو منظوری دی گئی۔ مختلف پارٹیوں کے 15 اشتہارات کے سرٹیفکیشن کو واپس لے لیا گیا کیونکہ ان اشتہارات میں تبدیلیاں کی گئیں اور حقیقی منظوری سے ہٹ کر اشتہارات کی تشہیر کی جارہی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی پارٹیاں منظوری سے قبل ہی یو ٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمس پر اشتہارات ٹیلی کاسٹ کررہے ہیں۔ الیکٹورل آفیسر نے سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ تین اجلاسوں میں اشتہارات سے متعلق رہنمایانہ خطوط کی وضاحت کی تھی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا تھا کہ خلاف ورزی کی صورت میں سرٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔ الیکٹرانک میڈیا بشمول ریڈیو اور ایف ایم چینل سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے اشتہارات کی ٹیلی کاسٹ سے قبل جانچ کرلیں۔ منظورہ اشتہارات ڈپٹی ڈائرکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ کے پاس موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق اشتہارات کے سرٹیفکیشن کا عمل جاری رہے گا اور جو بھی سیاسی پارٹی اشتہارات کیلئے درخواست دے گی ریاستی سطحی کمیٹی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق بی جے پی کے 5 ، بی آر ایس کے 4 اور کانگریس کے 6 اشتہارات کا سرٹیفکیشن واپس لیا گیا جنہیں ٹیلی کاسٹ نہیں کیا جاسکتا۔