بی آر ایس نے وقف ترمیمی قانون کی راجیہ سبھا میں مخالفت کی اور خلاف میں ووٹ دیا
حیدرآباد /18 اپریل ( سیاست نیوز ) بی آر ایس کے سینئیر قائد و سابق وزیر داخلہ محمد محمود علی نے وقف ترمیمی قانون کو دراصل مسلمانوں کی مذہبی آزادی میں بے جا مداخلت قرار دیا ہے ۔ جس کی بی آر ایس پارٹی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بی جے پی کی غیر ضروری مداخلت کی مخالف ہے ۔ پارٹی سربراہ و سابق چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر بی آر ایس کے ارکان راجیہ سبھا نے وقف ترمیمی قانون کی راجیہ سبھا میں مخالفت کرتے ہوئے بل کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیا گیا ۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے سخت اقدامات کئے گئے ۔ کے سی آر دور حکومت میں وقف بورڈ کو مستحکم بنانے کی کوشش کی گئی ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ وقف اراضیات کی دیکھ بھال کے معاملات مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہی ہونا چاہئے ۔ وقف معاملات میں حکومت کی مداخلت ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت ایوانوں میں اپنی عددی طاقت کے بل بوتے پر وقف ترمیمی بل کو منظور کراتے ہوئے اس کو قانونی شکل دے دی ہے۔ بی جے پی کا منشا و مقصد اس سیاہ قانون کے ذریعہ مسلمانوں اور وقف املاک کو نشانہ بنانا ہے ۔ جس کو مسلمان مسترد کرتے ہیں اور شدت سے اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ درگاہیں ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ ہوتی ہیں۔ درگاہوں پر 45 فیصد مسلمان اور 55 فیصد ہندو حاضری دیتے ہیں۔ یہی عقیدہ فرقہ پرست بی جے پی کو چبھتا ہے ۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے وقف ترمیمی بل کو منظور کر دیا گیا ہے ۔ محمد محمود علی نے کہا کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ وقف بورڈ سے مسلمانوں کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہے ۔ ایک عرصہ سے وقف بورڈ کو جوڈیشل اختیارات دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ تاہم حکومتیں اوقافی اداروں کو عدالتی اختیارات کی فراہمی میں ناکام رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے بیشتر قیمتی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ نہیں ہوسکا ۔ 2