ملک میںمسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، امیر جماعت اسلامی جناب سعادت اللہ حسینی کا ردعمل
حیدرآباد۔/2اپریل، ( سیاست نیوز) امیر جماعت اسلامی ہند جناب سید سعادت اللہ حسینی نے وقف ترمیمی بل کی سخت الفاظ میں مخالفت کی اور کہا کہ اس بل کا مقصد مقننہ کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف جانبداری کے رویہ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ 1995 کو ختم کرتے ہوئے مرکزی حکومت نیا بل پیش کررہی ہے جبکہ 1995 ایکٹ خالص مسلمانوں کیلئے نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دیگر مذہبی گروپس کو یکساں اختیارات حاصل ہیں۔ انڈومنٹ قانون کے تحت مختلف مذہبی طبقات کو اپنے اداروں کے انصرام کی اجازت دی گئی ہے۔ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو انڈومنٹ کے اداروں میں رکنیت نہیں دی جاسکتی۔ ٹمپلس بائی یوزر کا قانون وقف بائی یوزر کی طرح موجود ہے جس میں کئی مراعات دی گئی ہیں۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت صرف مسلمانوں اور وقف اداروں کے ساتھ جانبداری کا رویہ اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے ذریعہ وقف اداروں اور ان کی جائیدادوں کے امور میں حکومت کی مداخلت کی راہ ہموار ہوگی اور اداروں کی بنیادی مذہبی حیثیت خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ وقف ترمیمی بل دستور کی دفعہ 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی ادارے چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ عوام کی جانب سے مخالفت کے باوجود حکومت نے یکطرفہ طور پر بل پارلیمنٹ میں پیش کردیا اور پیشکشی سے قبل مشاورت کا عمل برائے نام تھا۔ انہوں نے تمام سیکولر پارٹیوں ، اپوزیشن قائدین اور این ڈی اے کی حلیف جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ غیر منصفانہ بل کی مخالفت کریں۔ جناب سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ بعض پارٹیاں جو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں انہوں نے بل کی تائید کے ذریعہ مسلمانوں کو مایوس کیا ہے، ایسی پارٹیوں کو بی جے پی کے دباؤ میں آئے بغیر آزادانہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے بل کی مخالفت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کی صورت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی قیادت میں ملک گیر سطح پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔ قانون کو دستوری اور قانونی طریقہ سے عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔1