سیاسی قائدین سے قربت رکھنے والوں کے خلاف کارروائی ، مستقبل میں تاجرین بھی نشانہ پر
حیدرآباد۔18جنوری(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی ایجنسیوں سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے علاوہ انکم ٹیکس عہدیداروں کی کاروائیوں کا دائرہ اب مزید تنگ ہونے لگا ہے اور ان ایجنسیوں و اداروں کی کاروائیوں میں مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے ان تاجرین کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے جو کہ سیاسی قائدین سے قربت رکھتے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اب تک تلنگانہ میں بھارت راشٹر سمیتی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں اوران سے قربت رکھنے والے تاجرین کو نشانہ بنایا جار ہا تھا لیکن اگر گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کی گئی کاروائیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کاروائیوں کے دائرہ کو تبدیل کرتے ہوئے دوسری جانب ان کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔چند ہفتہ قبل مرکزی حکومت کی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ٹولی چوکی سے تعلق رکھنے والے ایک بلڈر کی جائیداد کی قرقی اور ان کے خلاف کاروائی کے آغاز کے بعد پرانے شہر میں سی بی آئی کی کاروائی اور اس کے علاوہ پرانے شہر کے نواحی علاقو ںمیں جاری وینچرس کی تفصیلات کے حصول کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بعد اب شہر کے سرکردہ تاجر پارچہ پر کئے گئے انکم ٹیکس دھاوے کے بعد کہا جارہا ہے کہ ریاست گیر سطح پر فائدہ حاصل کرنے کے لئے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے شہر حیدرآباد کی حد تک کاروائیوں کو محدود رکھنے کے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور کہا جار ہا ہے کہ بھارت راشٹر سمیتی کو نقصان پہنچانے کے علاوہ بی جے پی کے استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ووٹ کی تقسیم کی حکمت عملی اختیار کرنے کی منصوبہ بندی پر کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی لئے مرکزی ایجنسیوں کی کاروائیوں کو ریاست گیر سطح پر کوشش کے بعد شہر حیدرآباد تک محدود کردیا گیا ہے اور ان کاروائیوں کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ نشستوں پر مقابلہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ذرائع کے مطابق سیاسی دولت کے محافظین کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں کے ذریعہ یہ مرکزی حکومت کی جانب سے بالواسطہ طور پر یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ حکومت ان سیاسی قائدین کی دولت کے محافظین کے متعلق تمام سرگرمیوں سے واقف ہے اور اگر وہ دباؤ قبول نہیں کرتے ہیں تو ایسی صورت میں جن تاجرین کے پاس ان کی دولت ہے ان کے خلاف کاروائی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امیدوار میدان میں اتارنے کے لئے آمادگی ظاہر نہ کئے جانے کی صورت میں مزید انکم ٹیکس دھاؤوں کا امکان ہے۔م