ریاستی سکریٹری اور دیگر قائدین گرفتار، گورنر عہدہ کو منسوخ کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی
حیدرآباد۔/7ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گورنر کے عہدہ کی برخواستگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سی پی آئی نے آج راج بھون گھیراؤ احتجاج منظم کیا۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ کی قیادت میں سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکن خیریت آباد ریلوے اسٹیشن کے پاس جمع ہوئے اور راج بھون پر ریالی منظم کرنے کی کوشش کی۔ پولیس اور سی پی آئی کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی جس کے نتیجہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ پولیس نے کئی سینئر قائدین کے بشمول 100 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی کارروائی کے دوران سی پی آئی کی طلباء تنظیم کے کئی قائدین زخمی ہوگئے۔ خود ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ دھکم پیل کے دوران گرپڑے۔ پولیس اور سی پی آئی کارکنوں کے درمیان کافی دیر تک بحث و تکرار ہوئی اور پولیس کا حصار توڑ کر راج بھون کی طرف بڑھنے کی کوشش کی گئی۔ قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ ، چاڈا وینکٹ ریڈی، ای ٹی نرسمہا، بالا ملیش اور دیگر قائدین کو حراست میں لے کر نامپلی پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا جہاں سی پی آئی قائدین نے پولیس کے رویہ کے خلاف دھرنا دیا۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر سی پی آئی قائدین اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمی کارکنوں کی عیادت کی۔ واضح رہے کہ سی پی آئی نے گورنر کے عہدہ کی برخواستگی کا مطالبہ کرتے ہوئے مہم کا آغاز کیا۔ پولیس نے راج بھون کے اطراف کئی علاقوں میں سی پی آئی کارکنوں کو روکنے کیلئے ناکہ بندی کردی تھی۔ سامبا سیوا راؤ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کے عہدہ کی برخواستگی تک سی پی آئی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنرس کو عوامی منتخب حکومتوں کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کی ذمہ داری چیف منسٹر اور وزراء کو حلف دلانا اور کسی بھی حکومت کی اکثریت کو طئے کرنا ہے لیکن گورنر تلنگانہ سوندرا راجن حکومت کی کارکردگی میں مداخلت کررہی ہیں۔ گورنر سوندرا راجن بی جے پی قائد کی طرح کام کررہی ہیں اور انہوں نے حکومت کے منظورہ بلز کو آج تک کلیرنس نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کیلئے گورنر کے عہدہ کا استعمال کیا ہے۔ر