شادی بیاہ کے موقع پر رسومات اور اسراف سے بچنے جمعیۃ القریش کا فیصلہ

   

شادی میں صرف ایک بریانی اور ایک میٹھا رکھا جائے، اجلاس سے صدر تنظیم محمد سلیم کا خطاب

حیدرآباد۔/12ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کی قریش برادری نے شادی بیاہ کے موقع پر بیجا رسومات اور اسراف سے بچنے کیلئے ایسی تقاریب کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جن میں اسراف کیا جارہا ہو۔ جمعیۃ القریش حیدرآباد کا اجلاس صدر محمد سلیم صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قریش برادری کے بعض افراد کی جانب سے طئے شدہ شرائط کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ شادی بیاہ کی تقاریب میں بیجا رسومات کے ذریعہ لڑکی والوں پر زائد بوجھ عائد کیا جارہا ہے۔ ایسی تقاریب جہاں گانا بجانا اور آرکسٹرا ہو اور کھانے میں ایک زائد ڈشیس کا انتظام کیا گیا ہو ان تقاریب کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سانچق کی تقاریب کا فنکشن ہال میں انعقاد لڑکی والوں پر اضافی بوجھ ہے۔ اسلام میں سانچق کا کوئی تصور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانچق اور پھر شادی دونوں مواقع پر لڑکی والوں کو کھانے کے انتظام سے مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے شادی کے موقع پر ایک بریانی اور ایک میٹھا کی روایت پر سختی سے عمل آوری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض دعوتوں میں کئی اقسام کی ڈشیس رکھی جارہی ہیں اس کے علاوہ ولیمہ کی تقاریب میں بھی کئی ڈشیس سے تواضع کی جارہی ہے یہ تمام سرگرمیاں اسراف کے تحت آتی ہیں۔ انہوں نے جمعیۃ القریش کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ بیجا رسومات اور اسراف کی تقاریب کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ بائیکاٹ کریں تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو۔ انہوں نے کہا کہ شادی میں ایک بریانی اور ایک میٹھا رکھا جائے اس کے ساتھ حلیم کا اہتمام بھی نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 75 فیصد افراد سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے اپنی لڑکیوں کی شادی کا اہتمام کرتے ہیں۔ بیجا رسومات اور اسراف کے نتیجہ میں ان پر اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ کورونا وباء کے پیش نظر عوام پہلے ہی پریشان ہیں ایسے میں شادی بیاہ کے موقع پر ہمیں اسراف سے بچنا چاہیئے۔ ر