حیدرآباد ۔ یکم ستمبر (سیاست نیوز) شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات پر عمل میں تلنگانہ حکومت کو ہائیکورٹ میں آج اُس وقت راحت ملی جب چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کی زیرقیادت بنچ نے اسکیمات پر سنگل جج سے جاری حکم التواء کو کالعدم کردیا۔ جسٹس این وی شراون کمار نے 12 اگست کو شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے سلسلہ میں 2014ء میں حکومت سے جاری 8 مختلف احکام پر حکم التواء جاری کردیا تھا۔ وجئے گوپال نامی ایڈوکیٹ نے محض سرکاری احکامات کی بنیاد پر اسکیمات پر عمل کو چیلنج کرکے کہا تھا کہ قانون سازی کے بغیر اسکیمات کی کوئی دستوری حیثیت نہیں ہے۔ محض جی او کی بنیاد پر اسکیمات پر عمل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسمبلی میں قانون سازی کی جانی چاہئے۔ 2014سے نافذ عمل دونوں اسکیمات پر جسٹس این وی شراون کمار نے روک لگادی تھی۔ بعد میں اُنھوں نے معذورین کیلئے اسکیمات جاری رکھنے کی اجازت دی اور صرف ایک جی او پر حکم التواء ختم کیا تھا۔ سنگل جج کے احکامات کے خلاف حکومت نے چیف جسٹس کے بنچ پر درخواست دائر کی۔ ہائیکورٹ کی رجسٹری نے حکومت کی جانب سے دائر کردہ رٹ اپیل کے جواز پر اعتراض کیا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین نے ہائیکورٹ رجسٹری کے اعتراضات کو نامنظور کرتے ہوئے آج حکومت کی درخواست کی سماعت کی۔ حکومت کی جانب سے سنگل جج کے اجلاس پر حلفنامہ داخل کرنے میں تاخیر پر جسٹس شراون کمار نے حکم التواء جاری کردیا تھا۔ ایڈوکیٹ جنرل اے سدرشن ریڈی نے چیف جسٹس کے اجلاس پر پیش ہوتے ہوئے کہاکہ 2014ء سے دونوں اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے اور یہ خالص فلاحی اسکیمات ہیں جن کے ذریعہ غریبوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ درخواست گذار کا اسکیمات سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اسکیمات کا اُن پر کوئی اثر ہوسکتا ہے لہذا فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کرنا ٹھیک نہیں۔ چیف جسٹس نے واضح کیاکہ درخواست گذار اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں بھی شامل نہیں ہیں لہذا اُن کے اعتراض کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے شادی مبارک اسکیم کی اجازت دی ہے اور اِسی طرز پر کلیان لکشمی اسکیم متعارف کی گئی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکومت کی ان اسکیمات کو چیلنج کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کا سنگل جج کو اختیار نہیں بلکہ ڈیویژن بنچ پر اُن کی سماعت ہونی چاہئے۔ ایڈوکیٹ جنرل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے چیف جسٹس نے سنگل جج کے حکم التواء کو کالعدم کردیا اور اسکیمات پر عمل آوری کی راہ ہموار کردی ہے۔ عدالت کو حکومت کی جانب سے اسکیمات کی تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے کہا گیا کہ غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی ایک مسئلہ ہے اور حکومت کی جانب سے شادی کے اہتمام کے لئے سماجی ذمہ داری کے طور پر مدد کی جارہی ہے۔V/1