شب برأت میں ایک دوسرے کو معاف کرکے اللہ سے معافی طلب کریں

   

بچوں کے حق میں والدین کی دعا انبیاء کی دعا کی طرح مقبول، شاہی مسجد باغ عامہ میں ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی کا خطاب

حیدرآباد ، 24 فروری (پریس نوٹ) ’’آج ہمارے معاشرہ میں ایک دوسرے سے ناراضگیاں اور آپس میں بدگمانیاں بڑھ گئی ہیں۔ جب کہ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ’لوگو !اگر تم کسی کو آپس میں بچھڑے ہوئے اور ناراض پائو، تو انھیں آپس میں ملا دو اور ان کے درمیان صلح کرادو۔ اس کا ثواب دس مسنون مقبول اعتکاف کے برابر ہے‘۔ نوجوان ہمت کرکے اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے درمیان صلح صفائی کرادیں۔ یہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی اور اپنے خاندان کی سب سے بڑی خدمت ہوگی‘‘۔ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد باغ عام نے اپنے خطبے کے دوران کیا۔مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ آج انا اور خاندانی رشتوں کی بے حرمتی اور لاتعلقی اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس سے خونی رشتوں میں تک دوریاں پیدا ہورہی ہیں۔ شب برات سے قبل ہم ایک دوسرے کو معاف کرکے اللہ سے معافی چاہیں۔ مولانا احسن الحمومی نے کہا کہ شب برأت کے موقع پر نوجوان اپنے والدین سے معافی چاہے۔ جوان بچے اپنے والدین کو ڈراتے ہیں اور ان کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ جب کہ نوجوانوں کو اپنے والدین سے معافی کی اپیل کرنا چاہیے۔ جہاں بچے اپنے والدین سے معافی چاہے، وہیں والدین بھی اپنے بچوں کو معاف کردیں۔ بچے اگر معافی کے درخواست گزار ہوں یا وہ غفلت میں ہو؛ہر حال میں والدین، بچوں کو معاف کردیں۔ والدین خود اللہ سے اپنے بچوں کی معافی کی دعا کریں۔ کیونکہ بچوں کے حق میں ماں باپ کی دعا انبیا ء کی دعا کے برابر مقبول ہوتی ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ نصف شعبان کی رات اللہ کی عبادت کرو اور پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھو۔ اس لیے کہ نصف شعبان کے وقت اللہ تعالی آسمانِ دنیا کی طرف نزولِ اجلال فرماتے ہیں اور منادی پیغام دیتا ہے کہ کوئی ہے جو اپنے گناہوں کی بخشش کرالے، جس کی بخشش کردی جائے۔ کوئی ہے جو اپنے رزق کی تنگی کو دور کرے اور اسے کشادگی عطا کروں۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے فجر تک ندا لگائی جاتی ہے۔ اس عظیم رات میں بھی جن لوگوں کی معافی نہیں ہوگی؛ ان میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا یعنی شرک کرنے والا، شراب کا عادی، قطع تعلق کرنا والا، سود خور (سود کے کھانے والوں سے اللہ نے اعلان جنگ کیا)، جادو کرنے اور کرانے والے لوگ شامل ہیں۔ مولانا احسن الحمومی نے دوران خطاب کہا کہ جو لوگ خوشحالی اور تنگ دستی میں خرچ کرتے ہیں اور جو غصہ پینے والے ہیں اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ حضورؐ نے فرمایاکہ قیامت کے دن ہر ایک نفسا نفسی میں مبتلا ہوں گے۔ ایسے وقت میں فرشتے اعلان کریں گے کہ کہاں ہیں وہ لوگ جن کے حق کو دینا اللہ کی جانب سے باقی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے حق چھینے گئے تھے اور اللہ کی خاطر انھوں نے معاف کردیا تھا۔ اللہ کی جانب سے ان کا اعزاز و اکرام کیا جائے گا۔