تم جیت گئے آخر، میں ہار گیا تم سے
ہتھیار بڑا سب سے یہ پیارا تمہارا ہے
دہلی شراب اسکام میں بالآخر سی بی آئی کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور دہلی کی ایک عدالت نے اس معاملے میں سابق چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال ‘ سابق ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی سابق رکن کونسل کے کویتا سمیت کئی ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ عدالت نے ان قائدین کی براء ت کا اعلان کرتے ہوئے سی بی آئی کی سرزنش بھی کی ہے کہ اس نے ایک معمولی مسئلہ کو ایک بڑے اسکام کے طور پر پیش کرنے میں ضرورت سے زیادہ سرگرمیں دکھائی تھی ۔ ابتداء ہی سے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ شراب اسکام میں کوئی سچائی یا حقیقت ہے ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی جانب سے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے اس طرح کا مقدمہ بنایا جارہا ہے اور سی بی آئی بھی مرکزی حکومت کے اشاروں پر کام کر رہی ہے ۔ اصل مقصد و منشاء یہی تھا کہ کجریوال اور سیسوڈیا کو گرفتار کیا جائے ۔ انہیں جیل بھیجا جائے ۔ ان کو بدنام اور رسواء کیا جائے ۔ ان کے خلاف گودی میڈیا کے تلوے چاٹنے والے اینکروں کے ذریعہ رسواء کن مہم چلائی جائے ۔ ان کا میڈیا ٹرائیل کروایا جائے اور پھرا ن سب کا دہلی کے اسمبلی انتخابات میں فائدہ حاصل کیا جائے ۔ سارا کچھ ویسا ہی ہوا جیسا بی جے پی چاہتی تھی ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی کو عدالت کی بھی پھٹکار کا سامنا کرنا پڑا ہے اور عدالت نے اس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ معمولی سے مسئلہ کو بڑے اسکام میں تبدیل کرنے کی غیر ضروری کوشش کی گئی ہے ۔ عدالت کی جانب سے سی بی آئی کی سرزنش اور اس پر تنقید اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ملک میں ایسے بے شمار مقدمات ہیں جن کے تعلق سے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور محض اپوزیشن سیاسی جماعتوںکو نشانہ بنانے اور انتخابات میں ان کے حوصلے پست کرنے کیلئے مقدمات درج کئے گئے ہیں اور سی بی آئی کی جانب سے مرکزی حکومت کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے یہ مقدمات اپوزیشن قائدین کے خلاف درج کئے گئے ہیں۔ کئی مقدمات تو ایسے بھی ہیں جو عین اسمبلی یا پارلیمانی انتخابات سے قبل درج کئے گئے تھے اور ان کے بھی سیاسی مقاصد ہی ہیں۔
سی بی آئی نے تو اپنی ساکھ بچانے کیلئے یہ کہہ دیا ہے کہ وہ دہلی کی عدالت کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی ۔ تاہم جہاں تک ملک کے گودی میڈیا اور تلوے چاٹنے والے اینکروں کا سوال ہے تو انہیں اروند کجریوال ‘ منیش سیسوڈیا اور دوسروں سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ انہیں شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ وہ بھی سیاسی آقاوں کے آلہ کار بن گئے تھے اور ان کے اشاروں پر ہی کسی نہ کسی کو بدنام اورر سواء کرنے کی مہم کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور میڈیا ٹرائیل چلاتے ہوئے حکومت اور بی جے پی کی ترجمانی کا کام کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ملک میں پیدا ہوگئی ہے جو انتہائی شرمناک کہی جاسکتی ہے تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا کو اس کا احساس تک نہیں ہو رہا ہے یا پھر وہ احساس کرنا ہی نہیں چاہتا ۔ سی بی آئی نے بھلے ہی کہا ہو کہ وہ عدالتی فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرے گی تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کے معاملات اور عدالتی تبصروں کی وجہ سے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کی ساکھ متاثر ہوگئی ہے ۔ ان کے تعلق سے عوام میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ عوام یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اب بی جے پی کی آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں اور ان کا حکومت کی جانب سے انتہائی بیجا استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے ۔ کامیابی حاصل کی جا رہی ہے ۔
اروند کجریوال اور منیش سیسوڈیا کا جو عوامی امیج تھا وہ بہت اچھا رہا ہے ۔ وہ ایماندار اور دیانتدار سیاسی قائدین کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ انہوں نے دہلی کی صورت کو بدلنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ دہلی میں بعض انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں۔ سرکاری اسکولس کو اعلی معیاری کارپوریٹ اسکولس سے آگے بڑھادیا گیا تھا ‘ سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ دواخانہ کے طرز پر ترقی دی گئی تھی ۔ بہت کچھ کیا گیا تھا اور بہت کچھ کیا جانا باقی بھی تھا ۔ تاہم جس طرح سے سیاسی مفاد کیلئے مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں جیل بھیجا گیا تھا اس سے ان کی امیج متاثر ہوئی تھی ۔تاہم اب عدالت نے انہیں کلین چٹ دیدی ہے تو مرکزی حکومت اور سی بی آئی جیسی مرکز ی ایجنسی کا رول ہی اس معاملے میں مشکوک ہوگیا ہے ۔