ملک میں اپوزیشن جماعتوں اور ان کے قائدین کو نشانہ بنانے کیلئے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے بیجا استعمال کی شکایات عام ہوگئی ہیں۔ ملک کی تقریبا ہر ریاست میں تقریبا ہر اپوزیشن جماعت اور اس کے قائدین کو تحقیقاتی ایجنسیوںسے دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ چاہے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے قائدین ہوں یا آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے ارکان راجیہ سبھا ہوں ‘ چاہے مہاراشٹرا میںشرد پوار ہوں یا پھر اب شیوسینا کے سنجے راوت ہوں ‘ چاہے کانگریس کے کئی ریاستوں میں سرگرم قائدین ہوں یا پھر کرناٹک پردیش کانگریس کے صدر ڈی کے شیو کمار ہوں۔ چاہے بہار میں راشٹریہ جنتادل کے قائدین ہوں یا پھر اترپردیش میںسماجوادی پارٹی کے ارکان ہوں ‘ چاہے جھارکھنڈ میں جے ایم ایم کے قائدین ہوں یا پھر ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے کے قائدین ہوں سبھی کو مرکزی حکومت کی جانب سے خوفزدہ کرنے کیلئے مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ مرکز میں اقتدار کے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کوخوفزدہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیںر کھی گئی ۔ کئی قائدین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی بھیج دیا گیا ۔ جہاں کرپشن یا رشوت کے الزامات کام نہیں آسکتے تھے وہاں کارکنوں کو غداری کے مقدمات میں جیل بھیج دیا گیا ۔ چاہے ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہی کیوں نہ ثابت ہوئے ہوں لیکن انہیں مہینوں تک ضمانت سے تک بھی محروم رکھا گیا ۔ دوسری طرف بی جے پی اور اس سے تعلق رکھنے والے قائدین کو ہر معاملے میں ضمانتیں فراہم کردی گئیں۔ لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر گاڑی دوڑا کر کچل دینے کے الزام کا سامنا کرنے والے مرکزی وزیر کے فرزند کو عدالت سے چند ہفتوںمیں ضمانت فراہم ہوگئی ۔ اسی طرح اترپردیش میں مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمات کا سامنا کرنے والوںکو بھی عدالتوں سے ضمانتیں اور پھر بعد حکومت میں عہدے بھی مل گئے ۔ یہ اقتدار کے بیجا استعمال کی سب سے بدترین مثالیں ہیں ۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں نے بھی مرکز کے اشاروں پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔
اسی مسئلہ پر مہاراشٹرا کے مرد آہن این سی پی سربراہ شرد پوار نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے نمائندگی کی ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میںاین سی پی اور شیوسینا کے قائدین کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ شرد پوار کی وزیر اعظم سے ملاقات پر سیاسی حلقوں میں کئی تبرے کئے جا رہے ہیں لیکن خود شرد پوار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال پر بات کی ہے ۔ شر دپوار وہی قائد ہیں جنہیں مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات سے قبل ای ڈی کی جانب سے نوٹس جاری کردی گئی تھی ۔ یہی نوٹس بی جے پی کیلئے مہنگی ثابت ہوئی کیونکہ شرد پوار نے خوفزدہ ہونے کی بجائے تحقیقات میں تعاون کرنے پولیس کے دفتر پہونچنے کا اعلان کردیا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے این سی پی کارکن ہزاروں کی تعداد میں ممبئی کی سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔ اس کے بعد تحقیقاتی ایجنسیوں کو یہ وضاحت کرنی پڑی کہ شرد پوار کو فی الحال دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہے اور جب ضرورت ہوگی انہیں مطلع کردیا جائیگا ۔ اسی نوٹس کے بعد شرد پوار حرکت میں آئے تھے اور انہوں نے ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں اہم ترین ادا کیا ۔ انہوں نے کانگریس اور شیوسینا کو ایک دوسرے سے قریب لاتے ہوئے سیاسی کرشمہ کردیا تھا اور اسی وجہ سے بی جے پی مہاراشٹرا میں اقتدار سے محروم ہوگئی تھی ۔ آج شیوسینا بی جے پی کی کٹر مخالف بن گئی ہے ۔
شرد پوار نے جس طرح تحقیقاتی ایجنسیوں کے مسئلہ پر وزیراعظم سے راست نمائندگی کی ہے وہ اچھا اقدام ہے ۔ مرکز کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کسی کو طاقت کے زور پر دھمکایا اور خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر کوئی ان مقدمات سے گھبرانے والا بھی نہیں ہوتا ہے ۔ جہاں تک مقدمات کی بات ہے تو جو حقیقی اور جائز مقدمات ہیں ان میں کسی کو مداخلت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی اور محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کسی کو نشانہ بنانا یا تحقیقاتی ایجنسیوں سے خوفزدہ کرنا ہندوستانی سیاست کی روایات کے مغائر ہے ۔ ملک میںسیاسی اثرات کو زائل کرنے کیلئے بھی ان ایجنسیوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ مرکز کو اس طرح کی روش سے باز آجانا چاہئے تاکہ تحقیقاتی ایجنسیوں کا وقار داؤ پر نہ لگ جائے اور ان کی غیر جانبداری مشکوک نہ ہوجائے ۔